اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سے اختلاف کرتا ہوں تاہم سیاستدانوں کو مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں،معیشت میں تھوڑی بہتری آئی ہے لیکن سیاسی عدم استحکام کی تلوار لٹک رہی ہے اگرسیاسی استحکام نہ آیا تو معاشی اشاریوں میں پھر تنزلی آسکتی ہے اس وقت دونوں طرف ٹکرائوکی کیفیت ہے اگر عوام کے منتخب نمائندے حکومت چلا رہے ہوتے تو موجودہ ہیجان نہ ہوتا۔انہوں نے کہا کہ خطرات کسی ایک شخص پارٹی یا ادارے کیلیے نہیں بلکہ پورے ملک کیلیے شدید خطرات ہیں خواجہ آصف کی باتوں سے لگ رہا کہ ہم کسی بہتری یا حل کی طرف نہیں جانے والے تحریک عدم اعتماد کے بعد اگلا ڈیڑھ سال پاکستان کی تاریخ کا معیشت کے حوالے سے بدترین دور گزرا اس عرصے جیسی افراط زر کسی دور میں نہیں دیکھی گئی کبھی 75سالوں میں نہیں دیکھا کہ کوئی کورونا‘سیلاب جنگ آفت نہیں تھی پھر بھی معیشت سکڑ گئی اس مشکل وقت سے تھوڑی بہتری آئی ہے لیکن بہتری پرسیاسی عدم استحکام کی تلوار لٹک رہی ہے اگر استحکام نہ آیا تو پھر تنزلی آسکتی ہے حکومت کے پاس ایک طاقت ہے دوسری طرف پی ٹی آئی کے پاس عوام کی طاقت ہے۔
