اسلام آباد: سعودی عرب کے وزیر برائے سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کی کوئی حد نہیں اور یہ بات دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ پاکستان نے اپنی معیشت کو تیزی سے مستحکم کیا ہے۔ ان کے اس بیان کی تائید عالمی بینک نے بھی کی ، جس کے مطابق پاکستان نے تیزی سے بحالی کا مظاہرہ کیا اور اس کی معیشت رواں مالی سال میں 2.8 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔
سعودی وزیر کی قیادت میں 135 رکنی اعلیٰ سطحی وفد ایک دن پہلے اسلام آباد پہنچا ہے، جہاں ان کے 2 ارب ڈالر کے معاہدے کرنے کی توقع ہے۔
الفالح نے دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم خاندان ہیں، دوست نہیں، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو کسی معاہدے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری معیشت اور سماجی اقدار ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، سعودی عرب میں 25 لاکھ پاکستانی کام کر رہے ہیں ۔
صدر آصف علی زرداری اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ صدر زرداری نے پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی کو فروغ دینے پر زور دیا، جبکہ آرمی چیف نے سعودی سرمایہ کاری کے لیے مملکت میں ایک سنگل ونڈو قائم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔
سعودی وزیر نے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، جہاں آرمی چیف نے بیوروکریسی کی سرخ فیتے کو مملکت کے لیے “ریڈ کارپٹ” میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اپنے دورے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے الفالح نے کہا کہ ریاض اور اسلام آباد کے درمیان 27 مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے جائیں گے۔
انہوں نے سعودی عرب کے پاکستان میں تعاون اور سرمایہ کاری میں اضافے کی تعریف کی اور کہا کہ ہمیں پاکستان کو اقتصادی طور پر مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

