English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری ایک بار پھر مشکلات کا شکار

کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے، کیونکہ 6 بولی دہندگان نے 60 فیصد کے بجائے 100 فیصد شیئرز کی ملکیت کا مطالبہ کر دیا ۔

ذرائع کے مطابق، بولی کی ابتدائی تاریخ یکم اکتوبر مقرر کی گئی تھی، تاہم اب اسے 30 اکتوبر تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ملازمین کے معاہدوں کے حوالے سے بھی خدشات نے عمل کو مزید الجھا دیا ہے، جن کے تحت تین سالہ ملازمت کی پیشکش کی گئی ہے، لیکن پنشن کے فوائد شامل نہیں کیے گئے۔

حکومت کی جانب سے بولی دہندگان کو 100 فیصد شیئرز کی فروخت پر واضح انکار کیا گیا ہے، اور 60 فیصد شیئرز کی پیشکش کو بڑھا کر 75 فیصد کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بولی دہندگان اس پیشکش کو قبول کریں، بصورت دیگر پی آئی اے کی نجکاری مزید تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔

نجکاری کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ بولی دہندگان کی جانب سے کوئی نئے اعتراضات سامنے نہیں آئے، اور اگر کوئی نئے مسائل پیدا ہوتے ہیں تو انہیں حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم، حتمی بولی ابھی تک نہیں ہوئی ہے، اور اس مرحلے پر کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

پی آئی اے کے ملازمین اور افسران بھی اس عمل سے متعلق گہرے تحفظات کا شکار ہیں، خاص طور پر تین سال سے زائد مدت کے معاہدوں اور پنشن جیسے فوائد نہ ملنے کی صورت میں ان کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بولی دہندگان کا کہنا ہے کہ ایئرلائن کو بہتر بنانے کے لیے انہیں 500 سے 600 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی، اور یہ سرمایہ کاری اسی وقت ممکن ہو سکے گی جب انہیں پی آئی اے کی 100 فیصد ملکیت دی جائے۔ مزید یہ کہ پی آئی اے کے زیادہ تر طیارے کرائے پر ہیں اور ان کی عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے آپریشنل لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، جسے کم کرنے کے لیے نئے طیارے خریدنے کی ضرورت ہے۔

حکومت کی جانب سے شارٹ لسٹ کی گئی کمپنیوں میں فلائی جناح، ایئر بلیو، عارف حبیب کارپوریشن، بلیو ورلڈ سٹی، پاک ایتھانول (پرائیویٹ) کنسورشیم اور وائی بی ہولڈنگز کنسورشیم شامل ہیں۔ نجکاری کمیشن کے سیکریٹری عثمان باجوہ نے ایک پارلیمانی اجلاس میں بتایا کہ ان کمپنیوں میں سے صرف دو نے پی آئی اے کے حصول میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل حکومتی کوششوں کے باوجود کئی مشکلات کا شکار ہے، اور اس کی کامیابی کا دارومدار ان خدشات کے حل اور بولی دہندگان کے ساتھ شفاف مذاکرات پر ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے