English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

خیبرپختونخوا میں امن کیلیے وفاق صوبے کا محتاج: جرگے نے علی امین کو مکمل اختیار دے دیے

پشاور:وفاقی حکومت خیبرپختونخوا ( کے پی کے )   میں امن کے لیے صوبائی حکومت کی محتاج ہوگئی،  کے پی کے کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی دعوت پر سی ایم ہاؤس میں گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس  میں کالعدم تنظیم سے مذاکرات کا مکمل اختیار وزیراعلیٰ کو سونپ دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ایم ہاؤس میں  کالعدم تنظیم سے مذاکرات کرنے کے لیے  وفاقی و صوبائی حکومتیں اور سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئیں، وزیراعلیٰ نے جرگے کی طرف سے دئیے گئے اختیار کو بشکریہ قبول کرتے ہوئے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہاکہ  معاملے کے حل کے لیے مشاورت اور لائحہ عمل جلد مکمل کیا جائے گا۔

 علی امین خان گنڈاپور کی میزبانی میں گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، چیئرمین  تحریک انصاف( پی ٹی آئی)  نے بھی جرگے میں شرکت کرکے اپنی بات رکھی جبکہ جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما پروفیسر ابراہیم نے بھی شرکت کی۔

وفاقی وزیر داخلہ کا خطاب:

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ ہم امن کے قیام کیلیے ہر تعاون کرنے کو تیار ہیں، آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے امن کے لیے ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں گے، آگے بڑھیں گے۔ ہمیں سب کو مذاکرات پر آمادہ کرنا اور مسئلے کا حل نکالنا ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا کا خطاب:

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آج کے جرگے کا ایجنڈا  صوبہ کا امن اور ہماری ترجیحات ہیں، جرگے کے انعقاد پر صوبائی حکومت کا شکر گزار ہوں، اختلافات کے باوجود صوبے کے امن کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں، مذاکرات ہی تمام مسائل کا حل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس خطے میں افغانستان کا مسئلہ ہمارے سامنے ہے جہاں عالمی برادری مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کے حل پر متفق ہوئی، ہم نے سب کو مذاکرات پر آمادہ کرنا اور مسئلے کا حل نکالنا ہے، جو لوگ اس ملک کے آئین اور قانون کو تسلیم کرتے ہیں ان سے مذاکرات کرنے چاہییں، کچھ مطالبات صوبائی حکومت سے ہوں گے کچھ وفاقی حکومت کے ہوں گے، جرگے میں وزیر اعلی بھی بیٹھے ہیں وزیر داخلہ بھی اور سیاسی قیادت بھی موجود ہے، صوبہ کے متعدد علاقے آج بھی نوگو ایریاز ہیں ہم سب کو متحد ہوکر اس صوبہ کو امن دینا ہوگا۔

وزیر اعلیٰ کےپی کے کا خطاب:

علی امین گنڈا پور نے جرگے سےخطاب کرتےہوئے کہاکہ وفاق ہمارے صوبے میں اقدامات اٹھاتا ہے اور ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا جب کہ صوبے میں عوام کو جواب دہ میں ہوں، وفاق کی مداخلت پر بات بڑھنے پر امیر مقام نے مداخلت کرکے جرگے کے ایجنڈے پر معاملہ بڑھایا، مذاکرات کیلئے دوسرے فریق کے ساتھ زمین پر بیٹھنے کو بھی تیار ہیں۔

جرگے کے شرکاءکا وزیر اعلیٰ کےپی کے پر اعتماد:

جرگے میں علی امین گنڈاپور نے صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر اقدامات اٹھانے پر اعتراضات عائد کیے، جرگہ نے صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے وزیر اعلیٰ کو کالعدم تنظیم کے ساتھ بات چیت کا اختیار دے دیا، وفاقی وزیر داخلہ نے بھی مذاکرات کا اختیار وزیراعلی کو دینے کی حمایت کی جبکہ جرگہ ارکان نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کالعدم تنظیم ریاست کے خلاف نہ جائے، کوشش کی جائے کم سے کم وقت میں مسئلہ حل کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے