English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شمالی کوریا نے سرحد کے قریب بین الکوریائی سڑکوں اور ریلوے لائنوں کو تباہ کر دیا

 شمالی کوریا نے سخت حفاظتی سرحد پر اپنی طرف سے بین الکوریائی سڑکوں اور ریلوے لائنوں کے کچھ حصوں کو دھماکوں سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں جنوبی کوریا کی فوج نے انتباہی گولیاں چلائیں ہیں ۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ بین الکوریائی سڑکوں اور ریلوے کو مکمل طور پر بند کر دے گا اور اپنی سرحدی علاقوں میں مزید حفاظتی انتظامات کرے گا، جس کا مقصد دو ریاستی نظام کو فروغ دینا ہے اور اتحاد کے طویل المدتی ہدف کو ختم کرنا ہے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) نے کہا کہ دوپہر کے وقت، شمال کی جانب سے جنوبی کوریا سے منسلک سڑک اور ریلوے لائنوں کے کچھ حصے تباہ کیے گئے ۔

سیول کی وزارت اتحاد، جو بین الکوریائی امور کو سنبھالتی ہے، نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ماضی کے بین الکوریائی معاہدوں کی واضح خلاف ورزی قرار دیا اور اسے “انتہائی غیر معمولی” قرار دیا۔

وزارت کے ترجمان کو بایونگ سم نے ایک بریفنگ میں کہا کہ”یہ افسوسناک ہے کہ شمالی کوریا بار بار اس طرح کے پسماندہ اقدامات کر رہا ہے ” ۔

کشیدگی اس وقت بڑھی جب شمالی کوریا نے گزشتہ ہفتے سیول پر پیانگ یانگ کے اوپر ڈرون بھیجنے کا الزام عائد کیا۔ شمالی کوریا نے کہا کہ ڈرونز نے شمال مخالف پمفلٹس کی ایک “بڑی تعداد” پھیلائی، کم جونگ کی بہن کم یو جونگ نے خبردار کیا کہ سیول کو “بڑی قیمت چکانی” پڑے گی۔

جنوبی کوریا کی حکومت نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ آیا جنوبی کوریا کی فوج یا شہریوں نے مبینہ ڈرونز اڑائے تھے۔

دونوں کوریا کے درمیان مئی سے کچرے کے غبارے چھوڑنے کے معاملے پر بھی تنازعہ رہا ہے۔ پیانگ یانگ نے کہا کہ یہ غبارے جنوبی کوریا کے مخالف حکومت کارکنوں کی جانب سے بھیجے گئے غباروں کے جواب میں چھوڑے جا رہے ہیں۔

منگل کو ہونے والے دھماکوں کے بعد، جنوبی کوریا کی فوج کی طرف سے جاری کی گئی ویڈیو میں ایک دھماکہ اور دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیا، جہاں شمال نے ایک سیاہ رکاوٹ کھڑی کی ہوئی تھی۔

ویڈیو میں کئی ڈمپ ٹرک اور زمین ہموار کرنے والی مشینیں شمالی کوریا کے فوجی حکام کی رہنمائی میں علاقے کی جانب بڑھتے ہوئے بھی دکھائی دیں۔

دھماکوں کے جواب میں، جنوبی کوریا کی فوج نے فوجی حد بندی لائن کے جنوب میں انتباہی گولیاں چلائیں، حالانکہ جنوبی کوریا کی طرف کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔

پرانے مفاہمت کے آثار

پیانگ یانگ بین الکوریائی تعلقات منقطع کرنے کے اقدامات کر رہا ہے اور اس سال کے اوائل میں کم جونگ ان نے اسے “بنیادی دشمن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد اب ممکن نہیں ہے۔

دونوں کوریا ابھی تک تکنیکی طور پر جنگ کی حالت میں ہیں کیونکہ ان کی 1950-53 کی جنگ امن معاہدے کے بغیر ایک جنگ بندی پر ختم ہوئی تھی ۔

وزارت اتحاد کے اعداد و شمار نے بتایا کہ سرحد پار سڑکیں اور ریلوے 2018 کے سربراہی اجلاس کے دوران مفاہمت کی باقیات ہیں۔ سیول نے 13.2 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رقم شمال کو سستے قرضوں کی صورت میں فراہم کی تھی تاکہ یہ منصوبے بحال کیے جا سکیں ۔

وزارت کے ترجمان کو نے کہا کہ “یہ ایک بڑا بین الکوریائی تعاون کا منصوبہ تھا جو شمال کی درخواست پر انجام پایا تھا”، انہوں نے مزید کہا کہ پیانگ یانگ ابھی بھی قرضوں کی ادائیگی کا پابند ہے۔

2020 میں، شمال نے ایک مشترکہ رابطہ دفتر کو دھماکے سے اڑا دیا تھا، جو ایک سرحدی شہر میں قائم کیا گیا تھا، جب امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔

جنوبی کوریا نے 2023 میں شمالی کوریا کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا، جس میں تقریباً 45 ارب وون ($33 ملین) کے ہرجانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جو مشترکہ دفتر کی تباہی کے نتیجے میں ہوا ہے ۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ بیجنگ کو اس پیش رفت پر تشویش ہے اور وہ “تنازعہ کی مزید شدت سے بچنا چاہتا ہے”۔

جنوبی کوریا کے صوبہ گیونگی، جو شمالی کوریا سے متصل ہے، نے منگل کو اعلان کیا کہ سرحدی علاقوں سے شمالی کوریا مخالف پمفلٹس کے اڑانے کے عمل کو روکنے کے لیے ایک خصوصی پولیس فورس تعینات کی جائے گی۔ جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے گزشتہ سال ایسے اقدامات پر پابندی کو ختم کر دیا تھا۔

حامیوں کا کہنا ہے کہ پمفلٹ مہمات کو آزادی اظہار کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے، جبکہ نقاد اور کچھ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو انہیں روکنا چاہیئے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے