غزہ: ایمرجنسی سروسز کے سربراہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری سے تباہ حال شمالی غزہ کے شہید فلسطینی انسانوں کی لاشیں وہاں کے کتے کھا رہے ہیں۔
امریکی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ایمرجنسی سروسز کے سربراہ فارس افانہ کا کہنا تھا کہ فورسز ہر وہ چیز تباہ کر رہے ہیں جس سے زندگی کے آثار ملتے ہوں، مجھے اور میری ٹیم کو کچھ ایسی لاشیں ملی ہیں جن پر جانوروں کے کاٹنے کے نشان موجود ہیں اور انہیں پہچاننے میں بھی دشواری کا سامنا ہے
انہوں نے کہا ہے کہ شمالی غزہ کے جبالیا کیمپ میں اسرائیلی بمباری کے باعث ہر طرف لاشیں گلیوں میں پڑی ہیں، سڑکیں تباہ ہیں اور خواتین اور بچے بدترین بھوک و افلاس کا شکار ہیں، بھوکے کتے سڑک پر پڑی لاشیں کھا رہے ہیں جس کی وجہ سے لاشوں کی شناخت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
فارس آفانہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے گزشتہ 12 روز سے محاصرے کا شکار جبالیہ کیمپ میں ہزاروں کی تعداد میں بچے اور حاملہ خواتین پھنسے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے اتوار کو جاری رپورٹ کے مطابق جبالیہ کیمپ سے 50 ہزار افراد ہجرت کر چکے ہیں جبکہ شمالی غزہ میں موجود 4 لاکھ سے زائد آبادی اسرائیلی بمباری اور محاصرے کی وجہ سے بھوک کا شکار ہے۔
اقوام متحدہ نے صیہونی فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شمالی غزہ کے لوگوں کو مجبور کر رہے ہیں کہ یا تو وہ ہجرت کریں یا پھر بھوک و افلاس کے لیے تیار رہیں۔

