سکھر (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی ضلع سکھر مولانا حزب اللہ جکھرو نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے، مسلم کشی اس کا بنیادی ایجنڈا ہے، مسلم حکمراں خاموش تماشائی کا کردار ختم کر کے ظلم و بربریت کو روکنے اور منہ توڑ جواب دینے کیلئے اپنا مؤثر کردار ادا کریں، اسرائیل اور اس کے پشتیبان امریکا کے ساتھ سفارتی تجارتی سمیت ہر قسم کے تعلقات کو منقطع کر دیں۔اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا کے مسلم ممالک اپنے عوام کی امنگوں خواہشات کے مطابق اسرائیل کیخلاف اب جہادی طرز عمل اختیار کریں، اسرائیل کیخلاف جہاد اب فرض ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مظلوم عوام غیر محفوظ اور بے سرو سامانی کا شکار ہیں، غذائی اجناس ادویات ناپید ہیں ،اسرائیل اپنے جنگی جنون میں خیمہ بستیوں اسپتالوں اسکولوں پر بمباری کر کے مسلمان مرد خواتین بچوں بوڑھوں بیماروں پر ٹنوں کے حساب سے بارود برسا چکا ہے ،ہزاروں افراد اس کی بربریت کا نشانہ بن کر شہید اور بے شمارزخمی معذور ہو چکے ہیں، مساجد کو شہید کر دیا گیا ہے،بے حس مسلم حکمرانوں میں سے کوئی طارق بن زیاد اور صلاح الدین ایوبی بننے کو تیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ بیدار ہوکر جہاد کا اعلان کرے، دو سو کروڑ مسلمان دنیا میں موجود ہیں دوسری جانب 7 لاکھ آبادی کا اسرائیل بد مست ہاتھی کی طرح مظلوم فلسطینیوں کو روندھ رہا ہے ، حسن نصراللہ اسماعیل ہانیہ کو شہید کیا گیا، مسلمانوں کی مظالم کیخلاف عملاً خاموشی اسرائیل کو ناپاک عزائم میں حوصلہ دے رہی ہے، امت مسلمہ اپنے حکمرانوں پر مظاہروں پر زور احتجاج کے ذریعے دباؤ ڈال کر مجبور کردے کہ وہ صرف افسوس و مذمت سے بڑھ کر کچھ عملی اقدامات اٹھائیں، تمام مسلم حکومتوں کی پارلیمنٹس امریکا کیخلاف قراردادیں منظور کریں جو اسرائیل کی مدد کر کے تمام جنگی جرائم میں اسرائیل کے ساتھ شریک جرم ہے، امریکی وزیر خارجہ یہودی ہے جس نے وہاں دورے کر کے یہودیوں کی سرزمین کو چوما ہے اور اسرائیل کو ہر ممکن امداد کا کہا ہے۔ امریکا اسرائیل کو بارود ٹینکوں ہتھیاروں سمیت بڑے پیمانے پر جنگی سازو سامان فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین مسلمانوں کا قبلہ اول انبیائے کرام کی مقدس سرزمین ہے وہاں امام الانبیا حضرت محمد ﷺ نے انبیائے کرام کی امامت کر کے نماز ادا کی ہے، یہ مقدس سرزمین امت مسلمہ کو پکار رہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان یو این او میں شامل تمام ممالک کو خط تحریر کرے اور ان سے مشترکہ حکمت عملی کا تقاضا کرے، سرزمین فلسطین کو اسرائیلی تسلط سے آزادی کیلیے کوششیں تیز کی جائیں۔
