English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حماس نے یحییٰ السنوارکی شہادت کی تصدیق کردی

بیروت: اسرائیلی حملوںمیں عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکی ہیں، چھوٹی تصویر جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی دفتر منصورہ کی ہے جہاں یحییٰ سنوار کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے

غزہ،تل ابیب،بیروت(مانیٹرنگ ڈیسک،خبر ایجنسیاں)حماس نے غزہ میں اسرائیلی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں اپنے سربراہ یحییٰ السنوار کی شہادت کی تصدیق کردی۔الجزیرہ نیوز کے مطابق غزہ میں حماس کے سربراہ خلیل حیا نے اپنی براہ راست نشر کی گئی تقریر میں کہا کہ ہماری آزادی اور خود مختاری کے لیے یحییٰ السنوار نے اپنی جان قربان کردی۔خلیل حیا نے یحییٰ السنوار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہادری اور دلیری کے ساتھ اسرائیلی فوج کے سامنے آخری سانس تک ساتھ ڈٹے رہے یہاں تک کہ اپنی جان اللہ کی راہ میں قربان کردی۔حماس کے ترجمان نے بتایا کہ یحییٰ السنوار نے لڑائی کے آخری لمحے تک ہتھیار نہیں ڈالے، اپنا سر اونچا رکھا اور تمام زندگی زندگی جدوجہد آزادی فلسطین میں گزار دی۔غزہ میں حماس کے سربراہ خلیل حیا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مزاحمت کی تحریک مزید تقویت کے ساتھ یحییٰ السنوار کے مشن کو جاری رکھے گی اور مقصد حاصل کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔خلیل حیا نے السنوار کے قتل کا انتقام لینے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی یرغمالیوں کو اْس وقت رہا نہیں کریں گے جب تک اسرائیل غزہ پر حملے بند نہیں کر دیتا اور اپنی افواج کو واپس نہیں بلوالیتا۔غزہ میں حماس کے سربراہ نے مغفرت کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً یحییٰ السنوار اپنے دوست اور قریبی تحریکی ساتھی اسماعیل ہنیہ کے ساتھ جنت الفردوس میں اللہ کی شاندار میزبانی سے لطف اندوز ہوں گے۔حماس کے عسکری بازو عزالدین القسام بریگیڈ نے بھی اپنے سربراہ کی شہادت کی تصدیق کرتے انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق غزہ میں حماس کے نائب سربراہ اور چیف مذاکرات کار خلیل حیا نے جمعے کو ایک بیان میں یحییٰ سنوار کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ یحییٰ سنوار نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک صف اول میں رہتے ہوئے ہاتھ میں ہتھیار اٹھا کر اسرائیلی فوج سے جنگ لڑی اور اسکا مقابلہ کیا۔حماس کے عسکری بازو عزالدین القسام بریگیڈ نے بھی اپنے شہید قائد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یحییٰ سنوار پیٹھ دکھانے کے بجائے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی شہادت سے قبل کے آخری لمحات کی وڈیو جاری کردی، صیہونی حکام کا دعویٰ ہے کہ وڈیو میں دکھائی گئی تباہ حال عمارت میں موجود صوفے پر بیٹھی شخصیت یحییٰ سنوار ہیں۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایک سال سے زائد عرصے سے پوری شدت سے یحییٰ سنوار کی تلاش میں سرگرداں فوجی بدھ کو جھڑپ میں ان کی شہادت کے بعد ابتدائی طور پر اس بات سے لاعلم تھے کہ وہ اپنے نمبر ایک دشمن پر قابو پاچکے ہیں۔اسرائیلی فوج نے جمعرات کو بتایاکہ خفیہ ادارے حماس کے سربراہ کی ممکنہ نقل و حرکت والے علاقے کا مرحلہ وار گھیراؤ کرر ہے تھے۔اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ دانتوں کے ریکارڈ، ڈی این اے ٹیسٹ اور فنگر پرنٹس کی مدد سے یحییٰ سنوار کی شہادت کی تصدیق ہوگئی ہے۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو جنوبی غزہ کے علاقے تل السلطان میں اسرائیل فوج کی بسلاچ بریگیڈ کا پیادہ دستہ حماس کے سینئر ارکان کی موجودگی کی اطلاع پر علاقے کی تلاشی میں مصروف تھا کہ اس دوران اسرائیلی اہلکاروں نے 3 مشتبہ جنگجوؤں کو عمارتوں کے درمیان نقل و حرکت کرتے دیکھا اور ان پر فائرنگ شروع کردی جس کے بعد مسلح جھڑپ شروع ہوگئی جس کے بعد یحییٰ سنوار ایک تباہ شدہ عمارت میں داخل ہوگئے۔اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صہیونی فوج نے مذکورہ عمارت کو ٹینک کے گولوں اور میزائلوں سے بھی نشانہ بنایا، اسرائیلی فوج نے منی ڈرون سے بنائی گئی ایک وڈیو فوٹیج جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس میں نظر آنے والی شخصیت یحییٰ سنوار ہیں۔وڈیو میں مبینہ طور پر موجود یحییٰ سنوار ایک صوفے پر بیٹھے ہیں اور ان کا دایاں ہاتھ شدید زخمی ہے اور انہوں نے اپنے چہرے کو رومال سے ڈھانپ رکھا ہے، وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حماس سربراہ نے اپنی شہادت سے قبل آخری مزاحمت کے طور پر چھڑی مار کر اسرائیلی ڈرون کو گرانے کی کوشش بھی کی۔اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل کا کہنا ہے کہ اس وقت تک یحییٰ سنوار کو محض ایک جنگجو تصور کیا جارہا تھا تاہم جب اہلکار عمارت میں داخل ہوئے تو انہیں حماس سربراہ ملے جن کے پاس ایک ہتھیار، ایک حفاظتی جیکٹ اور 40 ہزار شیکلز ( 10 ہزار 731 ڈالر) ملے۔اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیلی فوج اور سیکیورٹی حکام گزشتہ ایک سال اور حالیہ ہفتوں میں اس علاقے میں درجنوں حملے کرچکے ہیں، جس کے نتیجے میں یحییٰ سنوار کی نقل و حرکت محدود ہوگئی تھی یہاں تک کہ اسرائیلی فورسز انہیں شہید کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جائے مقام سے اْس پستول کے ملنے سے لاش کی شناخت میں آسانی ہوئی جسے یحییٰ السنوار اکثر جلسوں میں فخریہ لہراتے ہوئے بتاتے تھے کہ یہ جھڑپ میں اسرائیلی فوج سے چھینی گئی پستول ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق یحییٰ السنوار کی لاش کے قریب سے وہ پستول مل گئی جو حماس کے سربراہ ہمہ وقت اپنے ساتھ رکھتے تھے۔یہ پستول ایک اسرائیلی فوجی افسر کا تھا جو 2018 میں حماس کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا تھا اور تین سال تک ان کی تدفین کا جگہ کا پتا نہیں چل سکا تھا۔اس پستول کو یحییٰ السنوار متعدد بار جلسوں میں دکھاتے ہوئے بتایا تھا کہ اسلحہ انھوں نے ایک جھڑپ میں اسرائیلی فوج کے افسر کو ہلاک کرنے کے بعد حاصل کیا تھا۔علاوہ ازیںاسرائیلی فوج کے غزہ میں ایک حملے کے دوران حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار کی شہادت کے دعوے کے فوری بعد اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کا بیان سامنے آگیا۔اقوام میں متحدہ میں ایرانی مشن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ یحییٰ السنوار کے قتل سے فلسطین میں مزاحمت کو مزید طاقت اور مضبوطی ملے گی۔اپنی ٹوئٹ میں ایرانی مشن نے کہا کہ فلسطینی جوانوں اور بچوں کے لیے یحییٰ السنوار مزاحمت کے ایک رول ماڈل اور روشن مثال کے طور پر ابھریں گے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فلسطین کی نئی نسل یحییٰ السنوار کے راستے پر چلتے ہوئے فلسطین کی آزادی کی جدوجہد میں پہلے سے زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔قبل ازیں لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کو اب نئے مرحلے میں لے جانے کا اعلان کیا ہے جس میں اسرائیل پر حملے مزید تیز ہوں گے۔عرب میڈیا کے مطابق حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ ان کی لڑائی اب نئے مرحلے کی طرف جارہی ہے۔حزب اللہ کی جانب سے بتایا یگا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں دشمن کے خلاف نئے ہتھیار بھی استعمال کیے ہیں۔ حزب اللہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم اسرائیل کے خلاف جنگ کے نئے مرحلے کا آغاز کررہے ہیں اور اب پہلی دفعہ گائیڈڈ میزائل اور نئے قسم کے خودکش ڈرون طیارے استعمال کیے جائیں گے‘۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی ہلاکت غزہ جنگ کے خاتمے کا آغاز ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں نیتن یاہو نے بتایا کہ یحییٰ سنوار کو جمعرات کے روز رفح میں آئی ڈی ایف کے بہادر جوانوں نے مارا۔علاوہ ازیں یحییٰ السنوار کی شہادت کے بعد حماس کے نئے سربراہ کے لیے مختلف نام زیر گردش ہیں۔یحییٰ السنوار کے چھوٹے بھائی کمانڈر محمد سنوار، حماس کے نئے سربراہ کے لیے مضبوط ترین امیدوار ہیں۔ وہ 7 اکتوبر سمیت اسرائیلی فوج پر متعدد حملوں میں اپنے بھائی کے شانہ بشانہ شریک تھے۔علاوہ ازیں 49 سالہ محمد السنوار حماس کی ملٹری برانچ کے سب سے سینئر کمانڈروں میں سے ایک ہیں۔ محمد سنوار اسرائیل کو مطلوب حماس کے کمانڈرز میں سرفہرست ہیں۔اسرائیل کے محمد السنوار کو قتل کرنے کے لیے متعدد حملے کیے ہیں لیکن ہر بار وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ وہ حماس میں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔حماس کے مذاکرات کار اور غزہ میں تنظیم کے سربراہ خلیل الحیا بھی حماس کے نئے سربراہ ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے مصر اور قطر میں غزہ جنگ بندی مذاکرات میں سب سے کلیدی کردار ادا کیا۔خلیل حیا یحییٰ السنوار کے قریبی ساتھی اور ان کے نائب سمجھے جاتے تھے، ان کی سربراہی سے حماس کی سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل کی طرف جانے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔خلیل حیا کی سربراہی کے امکانات یوں بھی زیادہ ہیں کہ حماس کے وہ فوجی سربراہان جنہوں نے اسرائیل پر 7 اکتوبر کو حملہ کیا تھا، پہلے ہی مارے چکے ہیں اس لیے قیادت کے لیے صرف سیاسی رہنما رہ گئے ہیں۔حماس کی سربراہی کے لیے ایک اور ممکنہ امیدوار خالد مشعل ہوسکتے ہیں۔ ان کے سوا دیگر تمام قیادت اور اہم نام یا تو مارے جاچکے ہیں یا پھر لاپتا اور غیر فعال ہیں۔68 سالہ خالد مشعل 2004 سے 2017 تک حماس کی سربراہی کرچکے ہیں اور وہ اس عہدے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار ہیں۔تاہم امریکا نے خالد مشعل کو عالمی دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ قطر میں مقیم ہیں۔ وہ اسماعیل ہنیہ کی جگہ سربراہی سے صرف یحییٰ السنوار کی ملٹری پاور کی وجہ سے محروم رہ گئے تھے۔58 سالہ حسام بدران حماس کے نمایاں ترین عوامی ترجمانوں میں سے ایک ہیں گو، انھوں نے عسکری مہمات میں بھی حصہ لیا لیکن زیادہ تر ان کا میدان عوام اور سیاست رہا ہے۔69 سالہ نہایت تجربہ کار کمانڈر اور حماس کی فوج کے سربراہ محمد ابو انس شبانہ بھی نئے سربراہ ہوسکتے ہیں۔قبل ازیں اردن کی سرحد عبور کرکے 3 مسلح افراد اسرائیلی سرزمین میں داخل ہوگئے جہاں ان کی صیہونی فوجیوں سے مڈبھیڑ بھی ہوئی۔عرب میڈیا کے مطابق اردن سے اسرائیلی سرحد میں داخل ہونے والے دونوں مسلح افراد نے اردن کی فوج کا یونیفارم پہنا ہوا تھا تاہم اردن نے اعلان کیا کہ یہ ان کے فوجی نہیں تھے۔انھوں نے سرحدی آہنی بارڈر کو کاٹا اور اسرائیل کی فوجی چوکی تک پہنچے، جہاں ان کی جھڑپ کئی گھنٹوں تک جاری رہی جس کے نتیجے میںصیہونی فوج کے 2 اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔اسرائیلی فوج کے زخمی اہلکاروں میں سے ایک کی حالت نازک ہونے کے سبب ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ جوابی فائرنگ میں اردن سے داخل ہونے والے دونوں مسلح افراد مارے گئے جب کہ تیسرا فرار ہوگیا۔ادھر اخوان المسلمون کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے حملہ کرنے والے ان کی تنظیم کے ارکان تھے اور یہ حملہ غزہ سے اظہار یکجہتی کے لیے کیا گیا۔دوسری جانب اسرائیل کے ایک اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر حماس اور حزب اللہ کے ساتھ جنگ جاری رہی تو اسرائیل ایک سال میں تباہ ہو سکتا ہے۔اس سے قبل ریٹائرڈ میجر جنرل یتزک برک نے خبردار کیا کہ اسرائیل پہلے ہی ایک خطرناک دوراہے پر کھڑا ہے، وزیردفاع نے غزہ جنگ کے دوران جتنے دعوے کیے تمام بے بنیاد تھے۔ادھرامریکا کے صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار کی شہادت کے بعد غزہ میں جنگ بندی کے لیے پراْمید ہیں۔جرمنی پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جو بائیڈن کا کہنا تھا انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو یحییٰ سنوار کی شہادت کی اطلاع پر خوشخبری دی، یہ موقع ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کی جائے اور یرغمالیوں کو رہا کروایا جائے۔دوسری جانب امریکا کی نائب صدر اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے بھی حماس سربراہ یحییٰ سنوار کی شہادت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غزہ میں جنگ بندی کا موقع قرار دیا ہے۔کملا ہیرس نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے اور یحییٰ سنوار کی ہلاکت نے ہمیں غزہ جنگ ختم کرنے کا ایک موقع دیا ہے اور اس جنگ کو اس طرح ختم ہونا چاہیے کہ اسرائیل محفوظ رہے اور یرغمالی رہا ہوں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے