لندن (اٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ میں ٹوری پارٹی کے کونسلر کی اہلیہ لوسی کونولی کو نسلی نفرت انگیز پوسٹ کرنے پر جیل کی ہوا کھانا پڑے گی۔ عدالت کی جانب سے لوسی کونولی کو نفرت انگیز پوسٹ کرنے پر 31 ماہ قید کی سزا سنا ئی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق کونولی پر سیاسی پناہ گزینوں کی عارضی قیام گاہ کو جلانے کی پوسٹ کرنے کے الزام ہے۔ کونولی نے پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اپنی پوسٹ میں کہنا تھا کہ اگر یہ کام مجھے نسل پرست بناتا ہے تو میں ایسی ہی ہوں۔کونولی کی جانب سے بچیوں کے قتل کے 3 دن بعد متنازع پوسٹ شیئر کی گئی تھی۔یاد رہے کہ 29 جولائی کو شمالی برطانیہ میں 3بچیوں کے قتل کے بعد فسادات بھڑک اٹھے تھے۔ ان پرتشدد ہنگاموں کی وجہ وہ غلط معلومات اور افواہیں تھیں جن میں بچیوں کے قتل کا الزام ایک مسلمان پناہ گزین پر عائد کیا گیا تھا تاہم بعد میں کارڈف میں پیدا ہونے والے 19 سالہ ایکسل روداکوبانا پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا۔ ان ہنگاموں کے بعد پولیس نے لگ بھگ 1300 افراد کو گرفتار کیا اور 200 افراد کو جیل بھیج دیا گیا۔اس کے علاوہ کئی افراد پر آن لائن نسلی و مذہبی منافرت پھیلانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔گزشتہ ماہ ایک شہری کو پناہ گزینوںکے ہوٹل کو آگ لگانے کی کوشش کے جرم میں 9برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
