اسلام آباد: 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر اب تک اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث بار بار تاخیر کا شکار ہونے والا سینیٹ کا اجلاس شروع ہوگیا۔
ڈپٹی چیئرمین سیدال خان کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس 3 گھنٹے کی تاخیر کے بعد شروع ہوا۔تاخیر سے شروع ہونے والے سینیٹ اجلاس میں 38 اراکین موجود ہیں، اجلاس میں وقفہ سوالات جوابات معطل کرنے کی تحریک منظور کی گئی، تحریک سینیٹر عرفان صدیقی نے پیش کی۔
ایوان میں معمول کے ایجنڈے کے تحت کاروائی جاری ہے، بینکنگ کمپنیز ترمیمی بل 2024 سینیٹ سے منظور کیا گیا، بل وزیر خزانہ محمد اورنگزیزیب نے ایوان میں پیش کیا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر دنیش کمار نے سوال اٹھایا کہ اس بل کا بینکنگ کے شعبے اور بینک مالکان کو کیا فائدہ ہوگا؟
وفاقی وزیرخزانہ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بل خزانہ کمیٹی نے متفقہ طور پر منظور کیا ہوا ہے، بل بینک انڈسٹری کو معاشی نقصان سے بچانے کے لیے ہے، بل کے ذریعے کئی اصلاحات لائی گئی ہیں، بینکنگ کے شعبے میں اصلاحات لارہے ہیں۔
سینیٹر دنیش کمار نے کہا آج چھٹا دن ہے ترامیم پیش کی جائیں، ہمیں ہر جگہ سے فون آرہا ہے کہ کیا بنا ہے؟ ہمیں لوگ ترمیم والا سینیٹرز کہنا شروع ہوگئے ہیں۔

