English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسرائیلی فوج نے فلسطینی قیدیوں پر مظالم کی انتہا کردی، انسانیت شرما گئی

واشنگٹن: اسرائیلی فوج نے انسانیت کو روندتے ہوئے فلسطینی قیدیوں پر مظالم کی انتہا کردی۔

امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوجی فلسطین خصوصاً غزہ میں کسی بھی مشکوک عمارت میں داخل ہونے سے قبل وہاں سراغ رساں کتوں کو بھیجتے ہیں ، جس کا مقصد عمارت میں ممکنہ طور پر کسی بارودی مواد کی موجودگی کا پتا لگانا ہوتا تھا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے موسکیٹو پروٹوکول کے نام سے ایک نیا حربہ استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

موسکیٹو پروٹوکول نامی اس نئے حربے میں  صہیونی فوجی پہلے سے گرفتار کیے گئے کسی فلسطینی نوجوان کو مشکوک عمارتوں یا سرنگوں میں بھیجتے ہیں، جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر دھماکا ہو جائے یا کوئی بارودی مواد پھٹے تو اس کا نشانہ اسرائیلی فوجیوں کے بجائے فلسطینی گرفتار نوجوان ہی بنیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی ڈھال بنائے جانے کے اس سفاکانہ عمل سے متعلق حال ہی رہا ہونے والے 5 فلسطینی نوجوان قیدیوں نے بتایا جس کی تصدیق ایک اسرائیلی فوجی نے بھی کی ہے، تاہم اسرائیلی فوجی نے دعویٰ کیا کہ ان کا یونٹ قیدیوں کو انسانی ڈھال بنائے جانے کے بجائے ہمیشہ تربیت یافتہ کتوں سے بموں اور بارودی مواد کا سراغ لگانے کا کام لیتا آیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی فوجی نے بتایا کہ البتہ ایک بار انٹیلی جنس افسر کو نوجوان فلسطینی قیدیوں کو انسانی ڈھال بناتے دیکھا ہے۔ اس عمل کو موسکیٹو پروٹوکول کہتے ہیں۔ حال ہی اسرائیلی قید سے رہا ہونے والے ان فلسطینی قیدیوں نے بتایا کہ انھیں خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ لینے کے لیے قطار میں کھڑے ہونے کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

قیدیوں نے بتایا کہ انھیں ایک سے زائد بار ایسی عمارتوں ار سرنگوں میں داخل کیا گیا جہاں سے اسرائیلی فوجیوں پر حملے ہونے یا وہاں بم اور بارودی مواد ہونے کا امکان تھا۔ قیدیوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی کہتے تھے کہ ہوسکتا ہی یہ تمھارا آخری دن ہو اگر اندر جاتے ہی کوئی حملہ یا دھماکا ہوتا ہے تو تم مارے جاؤ گے البتہ ہم محفوظ رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے