
غزہ /تل ابیب /تہران /دوحا /قاہرہ (صباح نیوز /آن لائن /مانیٹرنگ ڈیسک)غزہ کے شمالی علاقے میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں 3 صحافیوں سمیت 53 فلسطینی جب کہ لبنان میں 21 شہری شہید ہوگئے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق قابض اسرائیلی فوج نے نصیرات کے پناہ گزین کیمپ کے اسکول میں ایک بار پھر بمباری کی جس میں 50 سے زاید فلسطینی شہید ہوگئے۔ غزہ میں شجائیہ کے علاقے میں اسرائیلی فوج کے حملے میں 3 صحافی بھی شہید ہوگئے۔ مجموعی طور پر 100 سے زاید فلسطینی زخمی بھی ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے لبنان میں پیر کو بھی بمباری جاری رکھی جس کے نتیجے میں 21 شہری شہید ہوگئے جب کہ دو بدو جھڑپوں میں 3 اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے۔ مصری صدر نے 4 صیہونی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے غزہ میں 2 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کردی۔ قاہرہ میں الجزائر کے صدر عبدالمجید تیبون کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ عارضی جنگ بندی پر عمل درآمد کے 10 دنوں کے اندر مذاکرات دوبارہ شروع ہونے چاہئیں تاکہ مستقل جنگ بندی تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکے۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا عبرانی زبان کا ایکس اکاؤنٹ معطل کردیا۔ اسرائیل کی جانب سے جمعے کی شب ایران پر حملوں کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کا عبرانی زبان کا ایکس اکاؤنٹ بنا تھا۔گزشتہ روز عبرانی زبان کے ایکس اکاؤنٹ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل نے ایران کے حوالے سے غلط حساب لگایا ہے اور حملہ کرکے غلطی کی ہے، ہم انہیں بتائیں گے کہ ایرانی قوم کا عزم و حوصلہ اور قوت کیا ہے۔ ایران نے اسرائیل کو حالیہ حملے کا جواب دینے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ‘صیہونی حکومت کو یقینی اور مؤثر جواب دینے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کریں گے‘ ہمارے ردعمل کی نوعیت اسرائیلی حملے کی نوعیت پر منحصر ہے۔ اسرائیل میں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر کابینہ اجلاس کو وزیراعظم دفتر اور فوجی ہیڈ کوارٹر کے بجائے کسی اور جگہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔اسرائیلی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی جوابی کارروائی کی دھمکیوں پر وزیراعظم نیتن یاہو نے سیکورٹی خدشات کو دیکھتے ہوئے کابینہ اجلاس وزیرِاعظم کے دفتر یا اسرائیلی فوج کے ہیڈ کوارٹر میں نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی وصیت اور حماس کو دی گئی ہدایات سامنے آگئیں۔ واضح رہے کہ یحییٰ سنوار 16 اکتوبر کو اسرائیل کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حماس کے سربراہ کا اپنی ہدایات میں اسرائیلی یرغمالیوں کے محافظوں سے کہنا تھا کہ’دشمن کے قیدیوں کی جان کا خیال رکھیں اور انہیں محفوظ بنائیں کیونکہ یہ ہمارے پاس سودے بازی کا واحد ذریعہ ہیں‘ دشمن کے قیدیوں کی دیکھ بھال انتہائی ضروری ہے تاکہ اسرائیلی جیلوں سے ہمارے فلسطینی قیدیوں کی رہائی ممکن ہوسکے۔ اسرائیلی حکومت کا تخمینہ ہے کہ غزہ اور لبنان میں اس کی فوجی کارروائیوں کی مجموعی لاگت60 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، ان بھاری جنگی اخراجات کے اسرائیلی معیشت پر اثرات واضح ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر خزانہ نے غزہ اور لبنا ن میں جاری جنگ کو ملک کے لیے تاریخ کی سب سے طویل اور مہنگی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی لاگت 54 ارب سے68 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے جبکہ ایران کے خلاف میزائل حملے اس لاگت میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی شیفلڈ ہالم یونیورسٹی کے ماہر معیشت ڈاکٹر امر کا کہنا ہے کہ آئندہ سال بھی جاری رہنے کی صورت میں اسرائیلی جنگ پر لاگت کا تخمینہ93 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جو اس کی سالانہ آمدن530 ارب ڈالر کا چھٹا حصہ ہے۔ بینک آف اسرائیل نے جنگی اخراجات کے لیے قرضے حاصل کرنے کے لیے حکومتی بانڈز کی فروخت میں اضافہ کیا ہے اور صرف مارچ2024 ء میں اس طرح 8 ارب ڈالر کی رقم حاصل کی گئی۔غزہ میں سردیاں بہت سخت ہوسکتی ہیں جس دوران یہاں درجہ حرارت بہت کم ہوجاتا ہے اور تیز ہوائیں چلتی ہیں، گزشتہ سال تو بارشوں کے باعث کئی کیمپوں میں پانی بھی کھڑا ہوگیا تھا۔31 سالہ نادیہ عطیہ، خان یونس کے المواسی کیمپ میں گرم کپڑے سینے کا کام کرتی ہیںانہوں نے کہا کہ بے گھر لوگ کمبلوں کو کپڑے کے طور پر استعمال کرکے اس سے گرم کپڑے سی رہے ہیں۔عطیہ نے کہا کہ غزہ میں کہیں سے بھی گرم کپڑے نہیں آرہے، ہم نے اس کے حل کے بارے میں بہت سوچا اور پھر ہمیں خیال آیا کہ ہم تھرمل بلینکٹکس کو ری سائیکل کرکے ان سے گرم کپڑے تیار کریں۔ گرم کپڑے سینے کا مکمل کام ہاتھوں سے ہی کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ بجلی نہ ہونے کے باعث سلائی مشین چلانے کے لیے اسے سائیکل کے پہیے کے ساتھ جوڑا جاتا ہے اور سائیکل کا پیڈل چلا کر مشین چلائی جاتی ہے۔ دوحا میںغزہ جنگ بندی کے لیے ایک بار پھر مذاکرات کا آغاز ہوگیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق قطر کی ثالثی میں غزہ میں جنگ بندی کی ایک اور کوشش جاری ہے مگر حماس اب تک ان مذاکرات میں شامل نہیںہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز قطری دارالحکومت دوحا میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات ہوئے جن میں امریکی ایجنسی سی آئی اے اور اسرائیلی ایجنسی موساد کے سربراہ شامل تھے جنہوں نے قطری وزیراعظم سے ملاقات بھی کی۔
