امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے بتایا ہے کہ روس چند ہفتوں کے اندر دس ہزار سے زائد شمالی کوریائی فوجی یوکرین کی فوج سے لڑنے کے لیے تعینات کرے گا۔
یوکرین کے محاذ پر روس کی طرف سے لڑنے کے لیے شمالی کوریا کے فوجیوں کی تعیناتی علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ کرے گی۔ روسی فوج کا کہنا ہے کہ یوکرین پر مزید حملوں کی تیاریاں کی جارہی ہیں تاکہ جنگ کو فیصلہ کن مرحلے میں داخل کیا جاسکے۔
مغربی ممالک نے روسی فوج کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معاملات بگڑیں گے۔ شمالی کوریا کی شمولیت سے علاقائی کشیدگی بڑھے گی اور جنگ کا دائرہ وسیع ہونے سے خرابی کا گراف بھی بلند ہوگا۔
شمالی کوریا نے دس ہزار سے زائد فوجی روس بھیج دیے ہیں جو اس وقت یوکرین کی فوج سے جنگ کے حوالے سے خصوصی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ ان فوجیوں کو محاذ پر تعینات کرنے سے یوکرین کی فوج پر دباؤ بڑھے گا جو دو سال آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے ہاتھوں پہلے ہی شدید تھکن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔
امریکا نے کہا ہے کہ اگر شمالی کوریا کے فوجی روسی فوج کے ساتھ مل کر یوکرین کی فوج سے لڑنے کے لیے میدان میں آئے تو مغربی ممالک کے پاس بھی یوکرین کی مدد کے لیے کُھل کر میدان میں آنے کے سوا چارہ نہ ہوگا۔ ایسی صورت میں جنگ پھیل سکتی ہے۔

