
بدین (نمائندہ جسارت) پاکستان فشر فوک فورم کی جانب سے ہزاروں مرد و خواتین ماہی گیروں کا ارسا ایکٹ، دریائے سندھ میں نکالی جانے والی غیر قانونی کینال، سندھ میں پانی کے ذخائر پر قبضہ اور ماہی گیری رہنما کے خلاف انتقامی کارروائی کے خلاف ریلی نکالی، پریس کلب پر مظاہرہ اور دھرنا دیا۔ تفصیلات کے مطابق ریلی میں شامل ہزاروں ماہی گیر مرد و خواتین نے ارسا ایکٹ میں ترمیم، دریائے سندھ سے نکالی جانے والی تجویز کردہ غیر قانونی کینالز، جھیلوں اور پانی کے دیگر ذخائر پر قبضوں کے علاوہ مرکزی چیئرمین سید مہران علی شاہ کے چاچا ماہی گیری رہنما سید کمال شاہ کے خلاف انتقامی کارروائی کے خلاف ڈی سی چوک سے پریس کلب تک ریلی نکالی، مظاہرہ کیا اور پریس کلب کے سامنے دھرنا دے کر احتجاج کیا۔ اس موقع پر ریلی اور دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے فشر فوک فورم کے مرکزی چیئرمین سید مہران علی شاہ، چیئرپرسن یاسمین شاہ، ضلع صدر نبی بخش، جنرل سیکرٹری عمر ملاح اور دیگر نے کہا کہ سندھ کے کروڑوں عوام کے ساتھ لاکھوں ماہی گیر بھی سندھ اور ماہی گیروں کے خلاف حکومتی سازشوں اور انتقامی کارروائیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ سید مہران علی شاہ اور چیئرپرسن یاسمین شاہ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فشر فوک فورم نے ہمیشہ کالا باغ ڈیم سمیت دریائے سندھ کے پانی کو روکنے، رُکاوٹیں ڈالنے اور ماہی گیروں کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، آج ایک بار پھر سندھ کے ماہی گیر ارسا ایکٹ میں ترمیم اور دریائے سندھ سے غیر قانونی کینال نکالنے کے خلاف جدوجہد کا آغاز کر چکے ہیں، سندھ کے ماہی گیر کسی صورت سندھ دشمن منصوبوں پر عمل نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام اور ماہی گیر دشمن سندھ حکومت ہمارے احتجاج اور جدوجہد دیکھ کر اقتدار کے نشے میں دھت حکمران بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر انتقامی کارروائیوں پر اُتر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور وزیراعلیٰ ہاؤس میں بیٹھا سلیم بجاری اور فشریز کے مشیر نجمی عالم نے انتقامی کارروائی کی انتہا کرتے ہوئے آمریت کی یاد تازہ کرکے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر رہے ہیں، خواتین اور بچوں کو حراساں کرنے کے علاوہ مرحوم سید محمد علی شاہ کے بھائی اور ہمارے چاچا کمال شاہ کو جھوٹے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سید محمد علی شاہ نے اپنی زندگی ماہی گیروں، ہاریوں، مزدورں، محنت کشوں کے لیے وقف کر رکھی تھی اور شہید طاہرہ شاہ نے اپنی جان ماہی گیروں کے حقوق کے لیے قربان کر دی۔ اس موقع پر ماہی گیر احتجاجی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے فشر فوک فورم ضلع بدین کے صدر حاجی نبی بخش، جنرل سیکرٹری عمر ملاح، قاسم بچو، عبدالمجید ملاح، خضر ملاح، عبدالرحیم چنڈیانی، عبدالرزاق ملاح، عسی ملاح، اللہ بچایو ملاح، قمر ملاح، فتح خان ملاح، متھن ملاح، ساجن شیخ، خدا بخش ملاح اور دیگر نے کہا کہ سندھ کے ماہی گیر سندھ حکومت کی انتقامی کارروائیوں، دریائے سندھ کے پانی پر ڈاکا، جھیلوں اور پانی کے دیگر ذخائر پر بااثر افراد کے قبضوں کے خلاف ایک بار پھر جدوجہد کا آغاز کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی بااثر شخصیات سلیم بجاری اور نجمی عالم نے ہمارے بانی چیئرمین مرحوم سید محمد علی شاہ کے خاندان کے ساتھ جو انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، سندھ کے ماہی گیر اس پر خاموش نہیں رہیں گے۔
