اسلام آباد( آن لائن)سینیٹ کی داخلہ کمیٹی نے صہیونیت بطور مذہب اپنانے اور اس کے لٹریچر کی تبلیغ و اشاعت کے خلاف بل متفقہ طور پر منظور کرلیا ہے۔ صہیونیت کی تبلیغ اور بطور مذہب قبول کرنے پر 3سال قید اور 40 ہزار روپے جرمانہ عاید ہوگا۔جمعرات کو قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ن لیگ کے سینیٹر افنان اللہ خان کی جانب سے بل پیش کیا گیا بل کے متن کے مطابق صہیونیت کو بطور مذہب اپنانا اور جان بوجھ کر اس کے مخصوص نشانات کے ذریعے اس کی تبلیغ و اشاعت کرنا جرم ہوگا، ایسے مجرم کو 3 سال قیدکی سزا اور 40 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا جبکہ صہیونیت کے ذریعے معاشرے میں تفریق اور لوگوں میں نفرت پیدا کرنے کی پاداش میں بھی 3 سال سزا اور 40 ہزار روپے جرمانہ یا دونوں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا اور سندھ پہلے ہی اس بل کی حمایت کر چکے ہیں، کمیٹی نے بل کی سفارشات متفقہ طور پر منظور کر لیں۔علاوہ ازیںسینیٹ کی داخلہ کمیٹی نے خواتین اور معصوم بچوں کے ریپ میں ملوث مجرموں کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دینے کے حوالے سے بل پر ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی ہے ،کمیٹی نے وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات کی بھرمار کے حوالے سے سیکرٹری داخلہ اور چیئرمین سی ڈی اے سے رپورٹ طلب کر لی۔جمعرات کو سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹرفیصل سلیم کے زیرِ صدارت منعقد ہوا اجلاس میں کمیٹی اراکین ، سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام اور ڈی سی اسلام آباد سمیت دیگر افسران نے شرکت کی اجلاس میں ریپ کیسز میں سزا بڑھانے کے حوالے سے سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے ترمیمی بل پر بحث کی گئی اس موقع پر سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ ریپ کیسز میں سزا بہت کم ہے، سخت سے سخت سزا دینا ہوگی۔ اجلاس میں ریپ کیسز کے حوالے سے قانون میں ترمیم کے حوالے سے سب کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا، ذیلی کمیٹی میں داخلہ، قانون اور انسانی حقوق کے نمائندے شامل ہوں گے جبکہ کمیٹی10روز میں اپنی رپورٹ دے گی۔ اجلاس میں پرائس کنٹرول اینڈ پروینشن آف پرافٹنگ اینڈ ہورڈنگ ترمیمی بل سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے پیش کیا گیاکمیٹی کی جانب سے بل وزارت قانون کو بھیج دیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کمیٹی کو بتایا کہ باقی اضلاع میں شاملات کا مطلب ہے کہ یہ پبلک پراپرٹی ہے جبکہ اسلام آباد میں شاملات کا مطلب پرائیویٹ پراپرٹی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ نقشہ بنانا الگ ہوتا ہے لیکن کسی کی ملکیت کو ریگولرائز نہیں کیا جاسکتا۔ سیکرٹری داخلہ کاکہنا تھا کہ اسلام آباد کا تصور الگ اور سی ڈی اے کا الگ ہے انہوںنے کہاکہ شہر میں تجاوزات موجود ہیں اور آپریشن ہوتے ہیںاس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے وفاقی دارالحکومت میں تجاوزارت کے حوالے سے اعدادوشمار مانگ لیے۔
