نئی دہلی:ریلوے نیٹ ورک تو دنیا بھر میں ہیں۔ ہمارے پڑوس میں بھارت کا ریلوے نیٹ ورک بھی بہت بڑا ہے۔ لوگ اس نیٹ ورک پر بھروسا بھی بہت کرتے ہیں مگر اچھے نظم و نسق کے باوجود بھارت میں ریلوے نیٹ ورک تمام توقعات پر پورا نہیں اتر پاتا کیونکہ کسی خاص سیزن میں اِس پر بہت دباؤ پڑتا ہے اور انتظامیہ کے لیے معاملات کو کنٹرول کرنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف چین میں آبادی کے اعتبار سے ریلوے نیٹ ورک اُتنا ہی بڑا ہے جتنا بھارت میں ہے۔ وہاں بھی نئے سال کے جشن کے موقع پر کروڑوں افراد ٹرینوں کے ذریعے اپنے آبائی علاقوں کا سفر کرتے ہیں۔
بھارت میں ٹرینیں تہواروں اور موسمِ گرما کی تعطیلات کے موقع پر کھچا کھچ بھری ہوتی ہیں۔ عام بوگیوں کے اندر لوگ ٹوائلیٹ تک میں بھرے ہوتے ہیں۔ ایسے میں کوئی پُرسکون طور پر سفر کرے تو کیسے کرے۔
مسافروں کی تعداد میں تہواروں اور تعطیلات کے موقع پر ہونے والے اضافے کو سنبھالنا انڈین ریلوے کے بس کی بات نہیں رہی۔
انڈیا ٹوڈے نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ چین میں ریلوے نیٹ ورک جامع ہے اور ٹرین میں سفر کرنے والا شاید ہی کوئی مسافر اُس سہولت سے محروم رہتا ہو جس کا اُس سے وعدہ کیا گیا ہو۔
اِس کے برعکس بھارت کے بعض علاقوں میں ٹرینوں کی حالت شرم ناک ہے۔ بھیڑ کو کنٹرول کرنے کا کوئی نظام ریلوے کے پاس نہیں۔ لوگ بوگیوں کی چھت پر بیٹھ کر بھی سفر کرتے ہیں۔ اور ڈبوں کے اندر بھی حال بہت برا ہوتا ہے۔ بہت سوں کے لیے بغیر ریزرویشن کی عمومی بوگی میں سفر سوہانِ روح ثابت ہوتا ہے۔
کبھی کبھی تو لوگ اپنی سیٹ سے ہل بھی نہیں پاتے۔ ایسے میں حبس ہو جانے کے باعث معمر افراد کے لیے سانس لینا بھی دوبھر ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف چین میں چلنے والی ٹرینوں کی بوگیوں میں لوگ کھچا کھچ بھرے ہوئے نہیں ہوتے۔
چین کے روایتی نئے سال کی تعطیلات کے موقع پر ملک بھر میں کروڑوں افراد سفر کرتے ہیں مگر کسی کو بھی ریلوے نیٹ ورک سے کوئی خاص شکایت نہیں ہوتی۔ چیک اینڈ بیلنس غیر معمولی ہے۔ مسافروں کی سہولت کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔

