English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومت سندھ کے بیشتر محکمے مقاصد کے حصول میں ناکام رہے،مسائل بڑھ رہے ہیں

کراچی ( رپورٹ: محمد انور) حکومت سندھ کے بیشتر محکمے اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہے‘ مسائل بڑھ رہے ہیں‘ کراچی سمیت مختلف شہروں میں کوڑا کرکٹ اور گندے پانی سے وبائی امراض پھیل رہے ہیں‘ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں‘ عوام پیپلز پارٹی کی کرپشن سے نجات کے لیے دیانتدار اور قابل افراد کو منتخب کریں ‘ اسکول اساتذہ کی میرٹ پر بھرتیاں کی گئیں‘ محکمہ تعلیم و صحت میں کارکردگی بہتر نظر آ رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے مقامی رہنما، بلدیہ عظمیٰ کی سٹی کونسل کے حزب اختلاف کے رہنما سیف الدین ایڈووکیٹ، سابق گورنر سندھ معین الدین حیدر، وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر کچی آبادی نجمی عالم، سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی رئوف اختر فاروقی، ممتاز صحافی شہزاد چغتائی اور پاکستان غریب عوام پارٹی کے چیئرمین ارشد حسین نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’کیا سندھ حکومت کے محکمے اور ادارے اپنے مقاصد پورے کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں؟‘‘ سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ حکومت کے بیشتر محکموں میں وہی پیپلز پارٹی کا روایتی کام یعنی کرپشن اور لوٹ مار چل رہی ہے جس کے نتیجے میں اصل جو کام کرنا ہے اور جو ان محکموں کے مقاصد ہیں وہ پورے نہیں ہو پا رہے‘ صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی بھی صرف اپنے پسندیدہ افسران کی تعیناتی اور تقرری پر توجہ دیں رہے ہیں اور وہ جو ترقیاتی کام کر وا رہے ہیں اس میں کرپشن کی مصالحہ دیا جا رہا ہے‘ ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اپنی سیاسی تاریخ میں صرف کرپشن کرنا اور لوٹ مار کرنا ہی کا تجربہ حاصل کیا ہے اس کا عوامی مفادات سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ نہ ہی عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی کام کرنا چاہتی ہے‘ پیپلز پارٹی سے وابستہ لوگ کرپشن کے الزامات میں ملوث ہوکر اپنا نیا ریکارڈ تو بنا رہے ہیں مگر انہیں عوامی مفادات کا کوئی خیال نہیں ہے‘ بلدیاتی اداروں خصوصاً جماعت اسلامی کے منتخب ٹاؤن چیئرمینز کو فنڈز جاری نہ ان کی ترجیحات میں شامل ہے جس کے نتیجے میں کراچی اور دیگر شہروں میں طویل عرصے سے گندگی اور غلاظت میں اضافہ ہو چکا ہے جو اب ڈینگی، چکن گونیا اور ملیریا سمیت دیگر وبا کے پھیلانے کا ذریعہ بن چکا ہیں۔ نجمی عالم نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ سندھ حکومت کے بیشتر محکمے اپنے قیام کے مقاصد میں ناکام ہوچکے ہیں‘ پہلی بار ہم نے میرٹ کی بنیاد پر پرائمری و سیکنڈری اسکولوں کے اساتذہ کی بھرتیاں کیں‘ یہی نہیں بلکہ سندھ کے اسپتالوں میں علاج معالجہ کی بہترین و مفت سہولیات پہنچا رہے ہیں‘ ان میں ” این آئی سی وی ڈی” اور بچوں کے اسپتالوں سرفہرست ہیں‘ ملک بھر کے لوگ اس بات کی گواہی دیں گے‘ صرف سندھ ہی واحد صوبہ ہے جہاں عام آدمی کے مفادات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ معین الدین حیدر نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سندھ کے بیشتر محکمے اپنے قیام کے مقاصد پورے کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں بلکہ سندھ کے اسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں پہلی بار توجہ دیے جانے کے ثبوت مل رہے ہیں‘ یہ بات بھی درست ہے کہ بہت سے محکموں میں اس طرح توجہ نہیں دی جا رہی جس طرح دی جانی چاہیے‘ اس وجہ سے شہریوں کو مختلف شکایات کا سامنا بھی ہے اس لیے صوبائی حکومت کو ان شکایات پر توجہ دے کر مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا چاہیے۔ رؤف اختر فاروقی نے کہا کہ یہ بات تو پورے صوبے اور خصوصاً کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے کبھی بھی اپنے ادوار میں عوامی مفادات کے تحفظ کے بجائے کرپشن کو پروان چڑھانے پر توجہ دی ہے جبکہ عوام کے درپیش مسائل میں اضافہ ہی کیا ہے۔ ارشد حسین کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہمارے سروں پر موجود ہے جسے ہم لوگوں نے ہی منتخب کر کے بھیجا ہے اب ہمیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا‘ ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر دیانت دار، ایماندار اور عوامی معاملات سے دلچسپی اور ان کا خیال رکھنے والے لوگوں کو ووٹ دینا چاہیے۔ شہزاد چغتائی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی روایات کے مطابق کرپشن اور بے قاعدگیوں کے ساتھ قائم ہے اور جیسی تیسی جمہوریت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اسے اپنی مدت پوری کرنے دیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے