اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے خبردار کیا ہے کہ ملک بھر میں دفاتر کی تعداد بڑھانے کی صورت میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کی فیس میں اضافہ کرنا پڑے گا۔
نادرا چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں بتایا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے 61 تحصیلوں میں نادرا دفاتر موجود نہیں ہیں ۔
کمیٹی کے اجلاس میں نادرا کے دفتری نیٹ ورک کی توسیع اور سی این آئی سی فیس میں ممکنہ اضافے پر گفتگو کی گئی ۔ نادرا حکام نے بتایا کہ دفاتر کی تعداد میں اضافہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے ممکن نہیں ہے اور مزید دفاتر کے قیام کے لیے فیس میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔
چیئرمین کمیٹی راجا خرم نواز نے اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شناختی کارڈز کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عام آدمی کے لیے بوجھ ہیں اور نادرا کو متبادل مالیاتی ذرائع تلاش کرنے چاہئیں۔ کمیٹی میں کئی ارکان نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مری اور تلہ گنگ جیسے نئے اضلاع میں نادرا کی سہولت دستیاب نہیں۔
اجلاس میں کمیٹی رکن ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پہلے شناختی کارڈ کو مفت کرنے کی تجویز دی تاکہ شہریوں پر مالی بوجھ کم ہو، لیکن نادرا حکام نے وضاحت کی کہ شناختی کارڈز کے اجرا اور تجدید سے حاصل ہونے والا ریونیو ہی ادارے کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔
اجلاس میں جعلی شناختی کارڈز کے اجراء اور سکیورٹی مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ نادرا چیئرمین نے بتایا کہ ادارہ روزانہ تین سے چار سو مشتبہ افراد کی نگرانی کرتا ہے تاکہ ڈیٹا لیک اور جعلی شناختی کارڈز کے اجرا کو روکا جا سکے۔
کمیٹی رکن آغا رفیع اللہ نے بہاری کمیونٹی کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے دیرینہ مسائل کو حل کیا جائے۔ اس موقع پر دیگر ارکان نے بھی ان کی حمایت کی ہے ۔

