لاہور: پنجاب حکومت نے قیدیوں کی سزا میں معافی کے قواعد و ضوابط اور معیار جاری کرتے ہوئیے کہا ہے کہ جیل میں مشقت، اچھے کردار کا مظاہرہ، تعلیم کا حصول، خون کا عطیہ اور اسپیشل معافی کی 5 صورتیں ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے قیدیوں کی سزا میں معافی کے قواعد و ضوابط کے حوالے سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا ہے، جس کہا گیا ہے کہ اچھے کردار کے حامل قیدی کو 1 سال قیدِ بامشقت مکمل ہونے پر 15 دن کی قید معافی ہو گی، قید کے دوران میٹرک، انٹر، بی اے یا ایم اے کرنے والے قیدیوں کو 6 ماہ سے 10 ماہ سزا کی معافی ملے گی۔
انہوں نے مزید کہاکہ دورانِ قید حفظ القرآن و ترجمہ مکمل کرنے والے قیدی کو 6 ماہ سے 2 سال سزا کی معافی ملے گی، جیل قوانین کے مطابق قیدیوں کو سپرنٹنڈنٹ جیل 30 یوم، آئی جی جیل 60 یوم، سیکریٹری داخلہ 90 یوم اور وفاقی حکومت 60 یوم کی اسپیشل معافی دے سکتی ہے۔
جاری کردہ قواعد و ضوابط میں مزید بتایا گیا ہے کہ صدر کی جانب سے جاری کردہ معافی آرٹیکل 45 کے تحت تمام قوانین پر فوقیت رکھتی ہے،جیل قوانین کے مطابق سزا یافتہ قیدی خون عطیہ کرنے پر 30 یوم معافی کا حق دار ہے، 4 ماہ سے کم قیدِ بامشقت سزا پانے والے قیدی بعوض مشقت معافی کے حق دار نہیں ہوں گے۔

