قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی رہی ہے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ مقابلے ہوتے رہے ہیں۔ سیاسی بنیاد پر کشیدگی تو رہے گی مگر اس کے ساتھ ساتھ معاملات کو درست کرنے والے اقدامات بھی جاری رہنے چاہئیں۔ اچھا ہے کہ کرکٹ کو فاصلے ختم کرنے اور پُل کا کردار ادا کرنے والی چیز رہنے دیا جائے۔
روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں راشد لطیف نے کہا ہے کہ کم و بیش ڈیڑھ عشرے کے دوران کرکٹ کے حوالے سے بھارت کا رویہ بہت عجیب اور افسوس ناک رہا ہے۔ اگر بھارت اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان نہیں بھیجنا چاہتا تو پھر پاکستان کو کسی بھی ٹورنامنٹ کی میزبانی بھی نہ سونپی جائے۔
راشد لطیف نے لکھا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قواعد اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اُس کے رکن ممالک اگر کسی ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کرتے ہوں تو مقابلوں میں حصہ لیں۔ پاکستان نے 2016 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور 2023 میں ورلڈ کپ مقابلوں کے لیے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ سوال بھارت کے پاکستان میں نہ کھیلنے کا نہیں بلکہ اُن وجوہ کا ہے جن کی بنیاد پر بھارتی کرکٹ بورڈ کرکٹ ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے انکاری ہے۔ اس سلسلے میں پاکستانی کرکٹ بورڈ کا بھارتی کرکٹ بورڈ سے جواب طلب کرنا بالکل درست ہے۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ چیمپینز ٹرافی کوئی دو طرفہ معاملہ نہیں۔ اگر بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان نہیں آتی تو پھر اُسے نتائج کا سامنا بھی کرنا چاہیے۔ میں پاکستانی کرکٹ بورڈ کی طرف سے بولنے کا اختیار و استحقاق تو نہیں رکھتا تاہم اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ اگر بھارت کی ٹیم کو نہیں آنا تو پھر پاکستان کو میزبانی کے حقوق دینے کے معاملے پر بھی نظرِثانی کی جانی چاہیے۔

