ایران نے گزشتہ ماہ امریکا کو بتادیا تھا کہ ٹرمپ کو قتل کرنے کا اُس کا ارادہ ہے نہ اُس نے اس سلسلے میں کسی سازش میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔
مغربی میڈیا یہ بات تواتر سے کہتے رہے ہیں کہ دوبارہ امریکی صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ پر دو قاتلانہ حملوں میں ایران کا ہاتھ رہا ہے۔ امریکا کے صدارتی انتخاب کے بعد سے ایرانی میڈیا مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاملات کی درستی کے لیے دونوں ملکوں کو بات چیت کرنی چاہیے۔
ایران پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملوں میں اپس کا کوئی کردار ادا نہیں تھا۔ ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ کم ہوگا یا نہیں، اس حوالے سے تجزیہ کار مختلف آرا کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کہتے رہے ہیں کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالنے اور امریکا کا موقف تسلیم کروانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔
یاد رہے کہ ایران کی طرف سے ٹرمپ کے قتل کا ارادہ نہ ہونے کا جو پیغام سامنے آیا ہے وہ اکتوبر میں بائیڈن انتظامیہ کو بھیجا گیا تھا۔
بائیڈن انتظامیہ نے کہا تھا کہ اگر کسی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی تو اِسے امریکا کے خلاف جنگی کارروائی تصور کیا جائے گا۔ امریکی محکمہ انصاف مسلسل یہ الزام عائد کرتا آیا ہے کہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے ساتھیوں کے قتل کے درپے رہا ہے۔
اسی حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر دباؤ بڑھائیں گے تاکہ وہ اپنی پالیسی تبدیل کرکے معاملات کو مصالحت کے ذریعے درست کرنے پر مائل ہو۔

