نئی دہلی: بھارتی پارلیمنٹ کا اجلاس پیر کے روز اڈانی گروپ پر رشوت کے الزامات پر اپوزیشن کے احتجاج کے باعث معطل کر دیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اپوزیشن اراکین نے امریکی الزامات پر بحث کا مطالبہ کیا تھا، جن میں اڈانی گروپ پر بھارتی حکام کو 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رشوت دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ رقم ٹھیکے حاصل کرنے اور بھارت کا سب سے بڑا شمسی توانائی منصوبہ تیار کرنے کے لیے دی گئی، جس سے 20 سال میں 2 ارب ڈالر منافع کمایا جا سکتا تھا۔
اڈانی گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
اپوزیشن کا احتجاج
کانگریس پارٹی کے صدر ملکارجن کھڑگے نے پارلیمنٹ اجلاس سے قبل کہا کہ اڈانی اسکینڈل پر فوری بحث ضروری ہے کیونکہ یہ بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تاہم، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں شور شرابے کے باعث کارروائی پورے دن کے لیے معطل کر دی گئی۔
کاروباری اثرات
امریکی الزامات کے بعد اڈانی گروپ کے بانڈز کی قیمتیں گر گئیں، جبکہ کچھ بینکوں نے گروپ کو نئی قرضوں کی فراہمی معطل کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اڈانی گروپ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اگلے 28 ماہ کے قرض کی ادائیگی کے لیے کافی نقدی موجود ہے۔
یہ بحران اڈانی گروپ کے لیے گزشتہ دو سالوں میں دوسرا بڑا جھٹکا ہے۔ اس سے پہلے ہنڈنبرگ ریسرچ نے گروپ پر ٹیکس ہیونز کے غلط استعمال کا الزام لگایا تھا، جسے گروپ نے مسترد کر دیا تھا۔

