English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

زمین سے پانی نکالنے کی روش بڑی تباہی کی راہ ہموار کر رہی ہے

زمین کا محور 31.5 انچ جُھک چکا ہے۔ سبب؟ بنیادی سبب یہ ہے کہ بھارت میں بہت بڑے پیمانے پر زمین سے پانی نکالا گیا ہے۔ زمین میں موجود پانی اِس پورے سیارے کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جب کہیں بہت زیادہ پانی نکالا جاتا ہے تو قدرت کے پیدا کردہ توازن میں خاصا بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

ایک حالیہ تحقیق کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ اس تحقیق کے لیے طے کردہ مدت کے دوران انسانوں نے زمین سے 2150 جیگا ٹن پانی نکالا ہے جو زمین کے محور کو تبدیل کرنے یا جُھکانے کا باعث بنا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ قطب کی تبدیلی کے لیے پہلے قدرتی عوامل کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا تھا مثلاً قطبین پر برف کے پگھلنے کا عمل تیز ہونے سے ماحول میں تبدیل رونما ہوتی تھی مگر اب انسانوں کے ہاتھوں واقع یا رونما ہونے والی تبدیلیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بہت سی خرابیاں اب انسانوں ہی کی پیدا کردہ ہیں۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ زیرِزمین پانی کے نکالے جانے کی یہی رفتار رہی تو ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے موسموں کی شدت برقرار رہے گی۔ یہ سب کچھ انتہائی نوعیت کی خرابیوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے کافی ہے۔

حالیہ تحقیق جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز میں شایع ہوئی ہے جس میں ماہرین نے یہ رائے دی ہے کہ ماحول کی خرابی روکنے کے لیے حکومتوں کو بہت جلد انقلابی نوعیت کے فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ پورے کرہ ارض کے مقدر کو خرابی اور تباہی سے بچانے کے لیے کچھ کیا جاسکے۔

زمین سے پانی نکالنے کے عمل میں تیزی اور توسیع نے سمندروں کی سطح بلند کردی ہے جس کے نتیجے میں خشکی کے معاملات بھی بگڑے ہیں اور زمین کے گردشی قطب کے گھومنے کی رفتار 4.36 سینٹی میٹر سالانہ ہوچکی ہے۔

اگر دنیا بھر میں زمین سے پانی نکالنے کا عمل یونہی جاری رہا اور اِس میں اضافہ بھی ہوتا رہا تو چند عشروں کے دوران ماحول میں اِتنی زیادہ تبدیلی رونما ہوچکی ہوگی کہ حکومت اقدامات بھی موسموں کی شدت پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہوسکیں گے اور ہر سال لاکھوں افراد موسموں کی شدت کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اترتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے