جیکب آباد (نمائندہ جسارت)جیکب آباد میں فرضی این او سی پر کام کرنے والی این جی او کے خلاف کاروائی نہ ہوئی معاملہ دبا دیا گیا ،آپکی خبروں سے ہمارے کام میں رکاوٹ آتی ہے اور پھر کاروائی کرنا مشکل ہوجاتا ہے ،ڈی سی۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں فرضی این او سے پر کام کرنے والی این جی او کے خلاف تاحال کارروائی نہیں کی جاسکی ہے سماجی تنظیم ہینڈز کی جانب سے ضلع جیکب آباد میں منصوبہ بندی پر پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے جوکہ پاپولیشن انٹرنیشنل سروس کی جانب سے فنڈڈ ہے 12اگست 2024ء کو این جی او کے سربراہ کے نام پر اسسٹنٹ کمشنر ٹھل جن کے پاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو جیکب آبا دکا اضافی چارج بھی ہے کہ دستخط سے جاری کیا گیا ہے مذکورہ پروجیکٹ مارچ 2025ء تک چلے گا کہ متعلق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو کا چارج رکھنے والے غلام عباس سدہایو کا کہنا ہے کہ میرے جعلی دستخط سے یہ این او سی جاری کی گئی ہے اس سلسلے میں ہینڈز جیکب آباد کے ذمے دار ویر بھان کو 5نومبر کو نوٹس جاری کرکے 6نومبر کو ڈی سی آفس جیکب آباد میں طلب کیا گیا ایک ماہ ہونے کو ہے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بڑی سفارش اور بھاری رشوت کے عیوض معاملے کو دبا دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں رابطے پر اے ڈی سی ٹو جیکب آباد کی اضافی چارج رکھنے والے اسسٹنٹ کمشنر ٹھل عباس سدہایو نے رابطے پر بتایا کہ تحقیقات جاری ہے این جی او کے کام کو اس لئے نہیں روکا کہ ہم علاقے کے لوگوں کا بھلا چاہتے ہیںدوسری جانب ڈی سی جیکب آباد ابرار احمد جعفر کا کہنا تھا کہ آپ کی خبروں سے کام میں رکاوٹ آجاتی ہے پھر کارروائی کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور تحقیقات پر اثر پڑتا ہے ۔
