نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں دنیا کے 7عجائبات میں شامل تاج محل کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اتر پردیش سیاحت کے علاقائی دفتر کو ایک ای میل موصول ہوئی، جس میں تاج محل کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق دھمکی کی اطلاع کے فوری بعد بم ڈسپوزل یونٹ، ڈاگ اسکواڈ اور دیگر سیکورٹی ٹیمیں فوری حرکت میں آئیں اور تاج محل کی 2گھنٹے تک مکمل تلاشی لی گئی لیکن کوئی مشکوک چیز برآمد نہیں ہوئی۔ تلاشی کے بعد پولیس نے اس دھمکی کو جھوٹ قرار دیا ۔ ریاستی محکمہ سیاحت کی ڈپٹی ڈائریکٹر دیپتی وتس نے بتایا کہ ایک مخصوص وقت پر تاج محل کو اڑانے کی دھمکی دینے والی ای میل وصول ہوئی تھی جس پر سیکورٹی ایجنسیوں نے فوروی کارروائی کی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق بم ڈسپوزل اور ڈاگ اسکواڈ نے اس یادگار کے ہر کونے کو چھان مارا مگر کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔ تاہم اس دوران خوف وہراس پھیلنے سے بچنے کے لیے تاج محل کو سیاحوں سے خالی نہیں کرایا گیا ۔ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) سید اریب احمد نے مزید بتایا سرچ آپریشن ختم ہو گیا ہے، لیکن ای میل بھیجنے والے کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہے ۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب اس یادگار سے متعلق ایسی دھمکی دی گئی ہو۔ اس سے قبل مارچ 2021 ء میں ایسی ہی ایک دھمکی کے باعث تاج محل کو ایک ہزار سے زائد سیاحوں سے خالی کرا کے تلاشی لی گئی تھی۔ اسی نوعیت کی ایک دھمکی اکتوبر 2017 ء میں بھی دی گئی تھی۔ رواں سال ہندو انتہا پسند عورت نے تاج محل کے گنبد پر گنگا جل چڑھایا اور زعفرانی پرچم لہرایا تھا جب کہ اس کے کچھ دن بعد ہی ایک ہندو انتہا پسند شخص تاج محل کو پاک کرنے کے نام پر گوبر لے کر آیا تھا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت میں مساجد اور مذہبی مقامات کو منہدم کرنے کے بعد انتہاپسند ہندو اب مسلمانوں کی تاریخی تعمیرات کو بھی مسخ کرنے کے درپے ہوگئے ہیں ۔

