English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

خواتین پرتشدد کی عالمی سطح پر قانون سازی ہورہی ہے

القمر

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) وومن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ حیدرآباد کی سینئر ماہر نفسیات سیدہ قرۃ العین شاہ نے کہا ہے کہ وومین ڈولپمنٹ ڈپارٹمنٹ حیدرآباد اور جائکا کی جانب سے مشترکہ طور پر صنفی بنیاد پر تشدد سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے کام کر رہے ہیں کیونکہ تشدد کا شکار صرف پاکستانی خواتین ہی نہیں ہیں بلکہ یہ اب دنیا بھر کا مسئلہ ہے۔یہ بات انہوں نے خورشید بیگم ڈگری کالج حیدرآبادمیں طالبات کے ساتھ منعقدہ ایک سیشن میں کہی۔یہ سیشن تشدد کے حوالے سے 16روزہ سرگرمیوں کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا جس میں صنفی بنیاد پر تشدد کے حوالے سے کالج کی طالبات کو آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر طالبات کا کہنا تھا انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ تشدد کی کتنی اقسام ہیں۔ سیدہ قرۃ العین شاہ نے مزید کہاکہ تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے عالمی سطح پر قانون سازی ہورہی ہے اور لوگوں کو شعور اور آگاہی کے لیے مختلف پروگرامز کا انعقاد کِیا جاتا ہے تا کہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جاسکے جہاں خواتین خود کو محفوظ محسوس کرسکیں ۔انہوں نے مزید بتایا کہ تعلیم اور آگاہی،قانونی کارروائی، سماجی حمایت،مردوں کی تربیت ،عورتوں کی آزادی اور تشدد کے خلاف آواز اٹھانا وغیرہ سے ہم عورتوں کیلئے محفوظ معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ انہوں نے طالبات کو آگاہ کیا کہ کہ جنس پر مبنی تشدد (Gender-based violence)ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جو دنیا بھر میں خواتین، لڑکیوں اور بعض اوقات مردوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے، یہ تشدد جنسی، جسمانی، ذہنی یا اقتصادی ہو سکتا ہے اور اس کا مقصد کسی فرد کی عزت نفس کو مجروح کرنا اور اس کے حقوق کو محدود کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرتی، ثقافتی اور اقتصادی عوامل اس تشدد کے پھیلا ئومیں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور خواتین کو اکثر گھریلو تشدد، جنسی استحصال، ہراسگی اور دیگر اقسام کے ظلم کا سامنا ہوتا ہے، جو ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر سنگین اثرات مرتب کرتا ہے، اس مسئلے کا حل اجتماعی کوششوں، تعلیم، آگاہی اور قانونی اصلاحات کے ذریعے ممکن ہے ہم سب کو مل کر عورتوں کے خلاف تشدد کو ختم کرنے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھنا چاہیے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے