شام کے صدر بشارالاسد کو اپوزیشن کی فتوحات کے باعث دمشق سے فرار ہوکر ماسکو میں پناہ لینا پڑی ہے۔ اس تبدیلی نے دنیا کو حیران کردیا ہے۔ یہ سمجھا جاتا رہا تھا کہ شام کی افواج اپوزیشن کے دھڑوں کو شکست دے دیں گی اور یوں امریکا اور اُس کے ہم خیال ممالک کی بھرپور مدد کے باوجود شام میں اکثریت وہ سب کچھ نہیں پاسکے گی جس کا وہ خواب دیکھتی آئی ہے۔
شام کے صدر بشارالاسد کو روس اور ایران کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ ایران کے لیے شام اسٹریٹجک نقطہ نظر سے بہت اہم ہے۔ شام کا ہاتھ سے نکل جانا اُس کے لیے افورڈیبل نہیں۔
بشارالاسد کے ملک سے فرار ہو جانے اور اُن کی حکومت کے ختم ہوجانے پر ہر وہ ملک پریشان ہے جو اُن سے دوستی کی پینگیں بڑھاکر خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرتا آیا ہے۔ بھارتی قیادت کے لیے بھی گھڑی مشکل کی ہے کیونکہ اب شاید شام اُس کے ہاتھ سے بھی نکل جائے۔
انڈیا ٹوڈے نے ایک تبصرے میں لکھا ہے کہ شام سے بھارت کے تعلقات بہت اچھے رہے ہیں۔ شام میں اقلیتی طبقے کی حکومت تھی مگر پھر بھی بھارت نے روابط بڑھائے اور معاملات کو اپنے حق میں استعمال کرنے پر توجہ دی۔ اب بھارتی قیادت کو شام سے تعلقات بہتر بنانے پر بہت محنت کرنا پڑے گی۔
شام میں علوی (یا علاوی) نام کے اقلیتی فرقے کی حکومت تھی۔ پہلے حافظ الاسد اور بعد میں اُن کے بیٹے بشارالاسد کو روس اور ایران کی حمایت حاصل رہی۔ ایک ناجائز حکومت سے بھارتی قیادت نے ہمیشہ تعلقات گہرے اور مضبوط کرنے پر بھرپور توجہ دی۔ شام سے بہتر تعلقات کے ذریعے بھارتی قیادت مشرقِ وسطیٰ میں اسٹریٹجک ڈیپتھ پیدا کرنا چاہتی تھی۔

