بھارت میں مذہبی یعنی ہندو انتہا پسندی تین عشروں سے بھی زائد مدت سے انتہائی مقام پر ہے۔ ہندو اکثریت ہر معاملے میں اپنی بات منوانے پر تُلی رہتی ہے۔ ہندو انتہا پسند عدالتی فیصلوں پر بھی اثر اندا زہوتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
ایک زمانے سے بھارت میں یونیفارم سِول کوڈ کا جھگڑا چل رہا ہے۔ ہندو کہتے ہیں کہ ملک بھر میں تمام افراد کے لیے یکساں سول کوڈ ہونا چاہیے یعنی شادی بیاہ کے معاملات اُس قانون کے تحت ہوں جو ریاست طے کردے۔ اس معاملے میں ہندو انتہا پسند مذہبی روایات کی مدد سے قانون بنوانا چاہتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ کوئی بھی دوسری شادی نہ کرے کیونکہ ہندو دھرم میں ایک سے زائد شادیوں پر پابندی ہے۔ علاوہ ازیں یکساں سول کوڈ کے تحت کوئی بھی شخص اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکے گا کیونکہ ہندو دھرم میں طلاق کا تصور ہے ہی نہیں۔
اگر کوئی یہ کہے ہ ہندوستان میں وہی ہوگا جو اکثریت چاہے گی تو آپ شاید یہ سوچ کر متوجہ نہ ہوں کہ کوئی ہندو انتہا پسند بڑھک مار رہا ہوگا۔ جی نہیں، یہ جملہ کسی ہندو انتہا پسند لیڈر کا یا کسی سیاسی کارکن کا نہیں بلکہ اِلٰہ آباد ہائی کورٹ کے سِٹنگ جج کا ہے۔
جسٹس شیکھر کمار یادو نے ہندو انتہا پسند تنظٰم وشوا ہندو پریشد کے ایک ایونٹ میں خطاب کرتے ہوئے یہ متنازع بات کہی ہے۔ یہ کہنے پر سوشل میڈیا یوزرز نے جسٹس شیکھر کمار یادو کی ٹرولنگ شروع کردی ہے۔ ایک زمانے سے بھارت کے مسلمان عائلی معاملات کو اپنے پرسنل لا کے تحت طے کرتے ہیں۔
وشوا ہندو پریشد کے ایونٹ میں جسٹس شیکھر کمار یادو نے کہا کہ ہندو دھوم میں بھی بہت سی خرابیاں ہیں تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ بہت سے مصلح آئے اور معاملات کو درست کیا۔
یاد رہے کہ گائے کو تحفظ فراہم کرنے کے نام پر بھی جسٹس شیکھر کمار یادو انتہائی نوعیت کے ریمارکس دے کر خاصی بدنامی سمیٹ چکے ہیں۔

