English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بشار الاسد کی بیدخلی سے روسی منصوبوں کو بڑا دھچکا

بشار الاسد کی بیدخلی سے روسی منصوبوں کو بڑا دھچکا
ماسکو: شام کے بے دخل صدر بشار الاسد پچھلے کئی سال سے روسی بل بوتے پر اقتدارپر براجمان رہے، روس کے لیے پریشان کن بات یہ ہے کہ پچھلے چند دنوں میں شام کی بدلتی ہوئی صورتحال نے روس کا شام سے متعلق منصوبہ سبوتاژ ہوگیا جوکہ موجودہ تناظر میں روس کسی اہلیت کا قابل نہیں رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اعلیٰ حکام کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا ہے، جس میں وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ شامی صدر بشار الاسد اپنے صدارتی عہدے سے نہ صرف مستعفی ہوگئے بلکہ وہ ملک شام بھی چھوڑ چکے ہیں۔ اب یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کہاں منتقل ہوئے ہیں۔ اس صورتحال میں اعلیٰ حکام نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ شام کے تشویشناک واقعات پر مستقبل کی منصوبہ بندی رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسد دور کا خاتمہ دراصل رشیہ کی سیاسی انا کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔
واضح رہے کہ2015ءمیںبیدخل صدر اسد کی طاقت مظبوط کرنے کے لیے ہزاروں فوجیوں کا دستہ بھیج کر روس نے اپنے آپ کو عالمی سطح پر سپر پاور ظاہر کیا تھا۔ جو کہ پوتن کے لیے بڑا امتحان تھا کہ وہ مغربی غلبہ دیکھتے ہوئے بھی سابق سوویت یونین کو کس طرح عالمی سطح پر مستحکم کرسکتے ہیں۔
یہ بات بھی علم میں رہے کہ روس کا ایک اعلیٰ فوج افسر دعوے کے طور پر کہتا تھا کہ”روس شام میں طویل عرصے کے لیے آیا ہے“۔ مگر روس کا یہ دعویٰ محض روسی ساکھ تک محدود نہیں تھا کیونکہ افواجی مدد کے بدلے شامی حکمران نے روس کو 49 سال کے لیے حمیمیم کا ہوائی اڈہ اور طرطرس کی بحری بیس لیز پر دیے۔ جس کی بنا پرسابق سوویت یونین نے بحیرہ روم کے مشرقی علاقے میںبڑی پیش روفت کرتے ہوئے ایک اہم مقام پر براجمان ہوگیا تھا۔ یہ اڈے اس لیے بھی اہمیت کے حامل تھے کہ انہی کی سربراہی میں فوجی کنٹریکٹرز کو افریقا کے لیے حوالے کیا جا سکتا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے