دمشق: شام میں سیاسی مخالفین سے انتقام لینے کے لیے بشار الاسد حکومت کی بنائی ہوئی زیر زمین جیلوں کا انکشاف ہوا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق شام میں بشار الاسد کی حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین کو زمین سے نیچے بنائی گئی خفیہ جیلوں میں بند کرکے رکھا تھا، جہاں قیدیوں کا باہر کے اندرونی یا بیرونی حالات سے بالکل کوئی تعلق نہیں تھا۔
شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم المرصد کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے بتایا کہ شمال مغربی شام کے علاقے الساحل السوری میں متعدد زیر زمین جیلیں دریافت ہوئی ہیں، جن میں خواتین اور بچوں سمیت سیاسی مخالفین کو قید رکھا جاتا تھا۔
انہوں نے عرب میڈیا کو بتایا کہ شامی فورسز کی کئی خفیہ جیلیں مخالفین سے بھری ہوئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ شامی فوج کے متعدد اعلیٰ افسران نامعلوم مقامات پر چھپے ہوئے ہیں، اور ان سے ان خفیہ جیلوں کے بارے میں تحقیقات کی جائیں گی۔
المرصد کے ڈائریکٹر نے بشار الاسد کے بھائی، ماہر الاسد، کے مارے جانے کی بھی تصدیق کی اور بتایا کہ ان جیلوں کے قیدیوں کو ان کے خاندانوں سے مکمل طور پر الگ رکھا گیا تھا۔
واضح رہے کہ شام میں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے لیے لڑنے والے مسلح باغیوں کو بھی کئی ایسی زیر زمین جیلیں ملی ہیں، جن تک پہنچنے کے لیے کھدائی کرنی پڑی۔ ان جیلوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
