خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران100افراد ہلاک ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق سوڈانی فوج نے مبینہ طور پر شمالی دارفور میں فضائی حملے کیے ،جن میں سیکڑوں افراد زخمی ہوگئے۔ فوج نے مارکیٹ اور ہفتہ وار بازار کو نشانہ بنایا،جہاں قریبی دیہات سے بڑی تعداد میں لوگ خریداری کرنے آئے ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں کی لاشوں اور زخمیوں کو مقامی اسپتال منتقل کیا گیا،جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب سوڈانی فوج نے حملے کی تردید کردی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ الزامات آر ایس ایف کی حمایت کرنے والی سیاسی جماعتوں کی طرف سے پھیلائے گئے ہیں،جو کہ محض پروپیگنڈا ہے۔ اس سے قبل برطانیہ اور سوڈان کے محققین کی رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ سوڈان کی جنگ کے ابتدائی 14 مہینوں کے دوران ریاست خرطوم میں 61 ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ تباہ کن تنازع سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو پہلے ریکارڈ کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اندازے میں تقریباً 26 ہزار ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہیں پرتشدد موت کا سامنا کرنا پڑا جو کہ اس وقت اقوام متحدہ کی جانب سے پورے ملک کے لیے استعمال کیے جانے والے اعداد و شمار سے زیادہ ہے۔ اس خانہ جنگی میں ہلاکتوں کی اصل تعداد ڈیڑھ لاکھ ہوسکتی ہے۔ ابتر صورتحال کے سبب فاقہ کشی اور عام بیماریوں سے اموات دیگر ہلاکتوں کا سبب بنی۔
