اسلام آباد: ملک میں زرعی قرضوں کی تقسیم میں پنجاب میں سب سے زیادہ 124 ارب روپے کے قرضے دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق زرعی ترقیاتی بینک(زیڈ ٹی بی ایل)نے ملک میں زرعی قرضوں کی تقسیم کے حوالے سے تفصیلات جاری کردی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ قرضے پنجاب میں دیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 124 ارب روپے تھی، جب کہ بلوچستان میں صرف 2.7 ارب روپے کے زرعی قرضے دیے گئے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں صدر زرعی ترقیاتی بینک طاہر یعقوب نے بتایا کہ قرضوں کی مجموعی رقم 200 ارب روپے سے زائد ہے، جس میں شرح سود بھی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں 5.3 ارب روپے، سندھ میں 23 ارب روپے، گلگت بلتستان میں 2.6 ارب روپے اور آزاد کشمیر میں 60 کروڑ روپے کے زرعی قرضے فراہم کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر صدر زیڈ ٹی بی ایل نے مزید بتایا کہ بینک میں مقامی لوگوں کی تعیناتی میرٹ پر کی جاتی ہے اور گزشتہ 10 برس میں 1900 افراد کی بھرتیاں کی گئی ہیں۔
سینیٹر عبد الشکور نے اجلاس میں بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں غربت کی زیادہ شرح ہے اس لیے اس صوبے کا زیادہ خیال رکھا جانا چاہیے۔
سینیٹر محسن عزیز نے سوال کیا کہ خیبرپختونخوا میں قرض اتنے کم کیوں فراہم کیے گئے، جس پر وزیر خزانہ نے وضاحت دی کہ اسٹیٹ بینک میں ایک کریڈٹ کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں صوبائی نمائندے اور کسان شامل ہیں۔ ان اجلاسوں کا انعقاد صوبائی دارالحکومتوں میں بھی کیا جاتا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس کمیٹی کے چیئرمین کی اجازت سے وزارت خزانہ اور زیڈ ٹی بی ایل مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔

