پاکستان میں فارمیسی کا شعبہ معیاری افرادی قوت کی شدید کمی سے دوچار ہے۔ ملک بھر میں کم و بیش 80 ہزار فارمیسیز یعنی میڈیکل اسٹور ہیں جن میں سے صرف 55 ہزار رجسٹریشن کے مرحلے سے گزرے ہیں۔
صحتِ عامہ کے حوالے سے صورتِ حال انتہائی پیچیدہ ہے۔ ایک طرف جعلی دواؤں نے قیامت ڈھا رکھی ہے اور دوسری طرف معیاری افرادی قوت یعنی سند یافتہ دواسازوں کی قلت نے پریشانی بڑھا رکھی ہے۔ ملک بھر میں بیشتر میڈیکل اسٹورز اور اسپتالوں کی فارمیسیز میں ایسے لوگ کام کر رہے ہیں جن کے پاس سند ہے نہ تجربہ۔ یہ لوگ معقول تربیت کے مرحلے سے بھی نہیں گزرے۔
دواسازی کے شعبے کی سرکردہ شخصیات حکومت کی توجہ اس مسئلے کی طرف دلاتی رہی ہیں۔ پاکستان فارماسیوٹیکلز مینوفیکچررز ایسوسی ایسن کے سابق چیئرمین سید فاروق بخاری کہتے ہیں کہ فارمیسی انتہائی حساس شعبہ ہے۔ یہ کام ہر ایک کے بس کا نہیں۔ اس کے لیے چار سال تک بھرپور پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر آف فارمیسی کی سند حاصل کی جاتی ہے۔ فارمیسی کے شعبے میں معیاری افرادی قوت کی کمی دور کرنے کے لیے حکومت کو فوری توجہ دینی چاہیے۔
غیر سند یافتہ دواساز ملک بھر میں کام کر رہے ہیں جس کے باعث صحتِ عامہ کے لیے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ غیر معیاری دوائیں استعمال کرنے سے معاملات بگڑتے ہیں۔ غیر سند یافتہ فارماسسٹ ڈاکٹرز کے پیچیدہ نسخے سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ اس کے نتیجے میں بہت بڑے پیمانے پر اموات واقع ہوتی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں جعلی دواؤں اور جعلی دواسازوں کے ہاتھوں کم و بیش 7 لاکھ افراد موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔

