بنگلا دیش میں طلبہ تحریک کے رہنماؤں نے 16 دسمبر کو بنگلا دیش کے قیام اور سقوطِ ڈھاکا کے موقع پر یومِ فتح منانے پر بھارتی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ’’نیا بنگلا دیش‘‘ تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 1971 میں بنگلا دیش کے قیام کی تحریک میں بھارت محض ایک اتحادی تھا۔ بنگلا دیش کے قیام کا سہرا صرف بنگلا دیشیوں کے سر ہے۔
آصف نذرل اور حسنات عبداللہ نے کہا ہے کہ بھارتی قیادت غلط بیانی کر رہی ہے۔ وہ ایسا تاثر دے رہی ہے کہ جو کچھ بھی ہوا وہ صرف بھارت کی مہربانی کا نتیجہ تھا اور بنگلا دیشیوں نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔
نیا بنگلا دیش کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار بنگلا دیش کے قیام سے متعلق حقائق کو مسخ کر رہی ہے اور دنیا کو یہ جتانا چاہتی ہے کہ اگر بھارتی فوج نہ ہوتی تو مشرقی بنگال کے مسلمان پاکستان سے الگ نہیں ہوسکتے تھے۔
آصف نذرل بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ (چیف ایڈوائزر) کے مشیرِ قانون ہیں۔ حسنات عبداللہ کا تعلق بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی ہے اور وہ بھارت کے کٹر مخالفین اور ناقدین میں سے ہیں۔ طلبہ تحریک کے دونوں سرکردہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بھارتی قیادت بنگلا دیش کے قیام کے حوالے سے گمراہ کن باتیں کرکے بنگلا دیش میں بھی باہمی اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
آصف نذرل کا کہنا ہے کہ بھارتی قیادت اس طور یومِ فتح (وجے دِوس) منارہی ہے گویا اُسی نے بنگلا دیش کا قیام یقینی بنایا ہو اور بنگلا دیش کے لوگوں کا تو اس تحریک میں کوئی کردار ہی نہ ہو۔
یاد رہے کہ 5 اگست 2024 کو شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بھارتی قیادت نے میڈیا کی توپوں کا رخ بنگلا دیش کی طرف کر رکھا ہے۔ بنگلا دیش کی طلبہ تحریک کے خلاف بھی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور بنگلا دیش جماعتِ اسلامی کو بھی مطعون کیا جارہا ہے۔ عالمی برادری کو بھارتی قیادت یہ تاثر دے رہی ہے کہ بنگلا دیش میں مسلم انتہا پسندوں کی حکومت قائم ہوچکی ہے اور اب بنگلا دیش بھی افغانستان کی طرح انتہائی سخت گیر نوعیت کی حکومت کے تابعِ فرمان ہوگا۔

