کنری(جسارت نیوز)قادیانیت سے تائب ہوکر مسلمان ہونے والا خاندان تحفظ کیلیے نیشنل پریس کلب پہنچ گیا،قادیانی جماعت اور رشتہ دار بچوں کو اغوا کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں پولیس کے ذریعے ہراساں کیا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق کنری کی راشد آباد کالونی میں رہائش پذیر محمد عامر گجر اور اسکی اہلیہ فاطمہ جنہوں نے تقریباً ایک ماہ قبل اپنے پانچ بچوں کے ہمراہ قادیانیت سے تائب ہوکر گلزار خلیل سامارو میں پیر جان آغا جان سرہندی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا قادیانی جماعت کی جانب سے دھمکیاں ملنے پر تحفظ کیلیے نیشنل پریس کلب کنری پہنچ گئے،نومسلم محمد عامر گجر اور ان کی اہلیہ فاطمہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ جھوٹے مذہب قادیانیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کے بعد قادیانی جماعت اور ان رشتے داروں نے ان کا جینا محال کر دیا ہے ان کو اسکول جانے والے بچوں کو اغوا کر لینے کی دھمکیاطگں مل رہی ہیں۔نومسلم خاتون نے بتایا کہ کولہی بازار میں ان کے شوہر کے تعمیر کردہ مکان پر سسر لیاقت گجر نے قبضہ کرکے مکان کرائے پر کسی کرائے دار کو دے دیا ہے اس سے قبل مکان کا کرایہ باقاعدہ ان کے بینک اکاؤنٹ میں آتا تھا مکان واپس کرنے کے اسرار پر میرے شوہر کو انہوں نے پولیس سے پکڑوا کر لاک اپ کروا دیا جبکہ اس معاملے میں چند قادیانی نواز مسلمان بھی ان کو سپورٹ کر رہے ہیں،خاتون نے بتایا کہ ان کے شوہر کا خالو رشید بلوچ لندن سے فون پر ان کو اور ہماری مدد کرنے والے پڑوسی مسلمانوں کو نتائج بھگتنے کی مسلسل دھمکیاں دے رہا ہے ان کو دوبارہ قادیانی مذہب میں لانے کیلیے لالچ اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں ان لوگوں نے ہمارا جینا محال کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ الحمدواللہ اب ہم نبی وآخرالزمان حضرت محمد مصطفیﷺ کا کلمہ پڑھ کر سچا مذہب اسلام قبول کر چکے ہیں اب کسی کے لالچ اور ورغلانے میں نہیں آئیں گے۔انہوں نے اپنے کلمہ گو بھائیوں،دینی ومذہبی جماعتوں اور علما کرام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں اب ہم اپنے جان ومال کے تحفظ کی مدد کس سے مانگیں ہمارا تحفظ آخر کون کرے گا۔انہوں نے دینی اور مذہبی جماعتوں کے سربراہان اور حکام بالا سے اپیل کی کہ دھمکیاں دینے والے قادیانیوں کیخلاف فوری کارروائی کرکے ان کو ان کے بچوں اور جان ومال کو تحفظ فراہم کرکے ان کا مکان واپس دلایا جائے۔
