سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا ہے کہ میں پہلے دن سے مذاکرات کا حامی ہوں، ہمیں مذاکرات کو مذاق کی رات نہیں بنانا بلکہ مذاکرات کامیاب بنانا ہے۔
راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا کہ اتنے کیسز بنا دیے گئے ہیں کہ زندگی سے اکتاہٹ ہونے لگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے تو 40 دن کا چلہ کاٹا ہے، پھر 2 بار جیل بھی گیا، یہ حکومت صدقے پر چل رہی ہے کیوں کہ انہیں عوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام بہت نالاں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت کا جلد خاتمہ ہو،میں پی ٹی آئی میں نہیں ہوں ،میرا ایک بندے سے تعلق ہے، وہی نبھانے کی کوشش کررہا ہوں۔
شیخ رشید نے مزید کہا کہ میری اصل حکمرانوں سے درخواست ہے کہ گیٹ کھول دیں، قیدیوں کو رہا کریں اور 26 نومبر، 9 فروری معاملات پر جوڈیشل کمیشن بنتا ہے تو قوم کے لیے امید کی کرن ہوگی،جوڈیشل کمیشن بننے سے قیدیوں کی رہائی ہوتی ہے تو ملک بہتری کی طرف آئے گا۔

