English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت کا ایک اور اہم خلائی تجرباتی مشن لانچ کر دیا گیا

القمر

بھارت نے پیر کو ایک راکٹ لانچ کیا جس میں دو چھوٹے جہاز خلا میں ڈاکنگ کرنے یعنی ایک ہی جگہ پر اکٹھے کرنے اور ملانے کا تجربہ کیا جائے گا۔

ڈاکنگ کو ملک کے خلائی اسٹیشن اور انسان بردار چاند مشن کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں بھارت کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر جتیندر سنگھ نے لانچ سے قبل کہا یہ مشن "بھارت کے مستقبل کے خلائی عزائم کے لیے اہم ہے۔”

ملک کے خلائی تحقیق کے ادارے "انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن” نے اس راکٹ لانچ کو براہ راست نشر کیا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ بھارت 2040 تک چاند پر انسان بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔


یورپی خلائی ایجنسی کی اس تصویر میں زمین کے گرد خلائی ملبہ نظر آ رہا ہے۔

یورپی خلائی ایجنسی کی اس تصویر میں زمین کے گرد خلائی ملبہ نظر آ رہا ہے۔

راکٹ، جسے PSLV-C60 کا نام دیا گیا ہے، پیر کی شام سری ہری کوٹا لانچ سائٹ خلا میں بھیجا گیا ہے۔

اس میں دو 220 کلوگرام کے سیٹلائٹ شامل تھے۔

بھارتی خلائی ادارے نے اس مشن کو "اسپیس ڈاکنگ ایکسپیری منٹ” کا نام دیا ہے۔

خلائی ادارے نے کہا کہ مشن کا مقصد "ترقی کرنا اور اس ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرنا ہے جس کی خلائی سفر میں ضرورت ہوتی ہے۔”

اس تجربے میں، ادارے کے مطابق، دو چھوٹے جہازوں کا ایک مقام پر لے جا کر ٹہرانا اور وہاں سے روانہ کرنا شامل ہیں۔




ادارے نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کا حصول بھارت کے چاند پر بھیجے جانے والے منصوبے کے لیے ناگزیر ہے۔

یہ ٹیکنالوجی مستقبل کے انسان کے خلائی مشن اور سیٹیلائٹ سروس مشن کے لیے ایک اہم حصہ ہے۔

اس تجربے میں 28,800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کے گرد چکر لگانے والے مصنوعی سیاروں کو ایک جگہ لانا شامل ہو گا۔

بھارتی خلائی ادارے نے کہا کہ ان مصنوعی سیاروں کو خلا میں ایک اکائی میں ضم کرنے کے لیے ان کی متعلقہ رفتار 0.036 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کم کی جائے گی۔

دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت کا خلائی پروگرام نسبتاً کم بجٹ کا ہے۔

تاہم، یہ پروگرام عالمی خلائی طاقتوں کے طے کردہ سنگ میلوں کو تیزی سے پورا کر رہا ہے۔


ہیوسٹن میں قائم ایک کمپنی انٹیویٹو مشینز کی فراہم کردہ اس تصویر میں ان کی تیار کردہ چاند گاڑی دکھائی گئی ہے جو 23 فروری کو چاند پر اتری۔ یہ کسی پرائیویٹ کمپنی کی جانب سے چاند پر پہلی کامیاب لینڈنگ ہے۔

ہیوسٹن میں قائم ایک کمپنی انٹیویٹو مشینز کی فراہم کردہ اس تصویر میں ان کی تیار کردہ چاند گاڑی دکھائی گئی ہے جو 23 فروری کو چاند پر اتری۔ یہ کسی پرائیویٹ کمپنی کی جانب سے چاند پر پہلی کامیاب لینڈنگ ہے۔

روس، امریکہ اور چین کے بعد بھارت اس مشن کے ساتھ خلائی ڈاکنگ ٹیکنالوجی رکھنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت نے اپنے خلائی پروگرام کے سائز اور رفتار میں کافی حد تک اپنے خلائی سفر کو آگے بڑھایا ہے۔

اس طرح بھارت بہت کم خرچ پر دوسری خلائی طاقتوں کی کامیابیوں کے برابر آ کھڑا ہوا ہے۔

اگست 2023 میں بھارت تین دوسرے ممالک ،روس، امریکہ اور چین کے بعد چاند پر بغیر پائلٹ کا جہاز اتارنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا تھا۔

(اس خبر میں شامل معلومات اے ایف پی سے لی گئی ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے