بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ یمن میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی نرس نِمشا پریا کی جان بچانے کے لیے جو کچھ بھی کیا جاسکتا ہے کیا جارہا ہے۔ نِمشا کی ماں اُس کی جان بچانے کے لیے یمن پہنچ گئی ہے۔
نِمشا کا تعلق بھارت کی جنوبی ریاست کیرالا سے ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جایسوال کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کو اس پورے معاملے کے تمام پہلوؤں کا علم ہے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ ترین سطح پر رابطے کیے گئے ہیں تاکہ نرس کو بچایا جاسکے۔ بات چیت میں ناکامی کے بعد یمن کے صدر نے نِمشا پریا کی سزائے موت کی توثیق کردی تھی۔
یمن کے صدر رشد العلیمی نے پیر کو نِمشا کی سزائے موت کی توثیق کردی۔ اگر مقتول کی فیملی نے معاف نہ کیا تو نِمشا کو ایک ماہ اندر سزائے موت دے دی جائے گی۔
نِمشا کو جولائی 2017 میں یمن کے شہری طلال عبدو مہدی کے قتل کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ دارالحکومت صںعا کی ایک ٹرائل کورٹ نے اُسے 2020 میں سزائے موت سنائی تھی اور یمن کی سپریم جوڈیشل کونسل نے نومبر 2023 میں اُس کی نظرِثانی کی اپیل مسترد کردی تھی تاہم دیت کا آپشن کھلا رکھا تھا۔
اس حوالے سے بات چیت نِمشا پریا کے وکیل کی فیس ادا نہ کیے جانے کے باعث رک گئی تھی۔ وکیل نے 40 ہزار ڈالر طلب کیے تھے اور فیس ملنے سے قبل کیس عدالت میں پیش کرنے سے معذرت کرلی تھی۔

