پاکستان نے نئے سال 2025 کے آغاز کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکن کی حیثیت سے اپنی ذمے داریاں سنبھال لی ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ پاکستان کی آٹھویں بار شمولیت ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت اور سفارتی کامیابی کا عکاس ہے۔پاکستان رواں برس جولائی میں سلامتی کونسل کی صدارت بھی کرے گا، جو کہ اپنی جگہ ایک منفرد اور اہم سفارتی اعزاز ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان کو داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں پر پابندیوں سے متعلق کمیٹی میں بھی نشست حاصل ہوئی ہے، جہاں یہ عالمی امن و استحکام کے لیے کردار ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس جون 2024 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 193 ارکان میں سے 182 نے پاکستان کو ایشیا بحرالکاہل کی 2نشستوں میں سے ایک کے لیے منتخب کیا تھا۔
پاکستان اپنی غیر مستقل رکنیت کے دوران غزہ، شام، افغانستان اور لبنان جیسے تنازعات پر اہم سفارتی کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اسی طرح پاکستان عالمی امن و سلامتی کے لیے اپنی پالیسیوں کو مؤثر انداز میں پیش کر سکے گا جب کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں بھی مزید نمایاں طور پر شریک ہوگا۔
اگرچہ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور صرف مستقل ارکان کے پاس ہے، لیکن غیر مستقل رکنیت کے ذریعے پاکستان اقوام متحدہ کی اہم پالیسیوں میں مشاورت اور فیصلے سازی کے عمل میں شمولیت اختیار کرے گا، جو عالمی سطح پر پاکستان کی آواز کو مزید مضبوط کرے گا۔
یہ رکنیت نہ صرف پاکستان کی عالمی سفارتی کامیابی ہے بلکہ مستقبل میں عالمی مسائل پر اس کے مثبت کردار کی راہ بھی ہموار کرے گی۔

