English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ہانگ کانگ کے لوگ ڈربوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور

شہری علاقوں میں رہائش کا مسئلہ دنیا بھر میں انتہائی نوعیت کے دردِ سر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ بڑے اور درمیانے حجم کے شہروں میں زمین بہت مہنگی ہوچکی ہے۔ مہنگائی کے باعث چیزوں کی قدر و قیمت میں کمی اور اسٹاک مارکیٹس کی دگرگوں کیفیت کے باعث لوگ زمین میں زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ پلاٹس کے علاوہ مکانات، بنگلوں، دکانوں، فارم ہاؤسز اور اپارٹمنٹس میں زیادہ سرمایہ لگایا جاتا ہے جس کے باعث اُن کی قیمت بھی بڑھی ہے اور کرائے بھی۔

جن خطوں میں مکانات کی شدید قلت ہے اور لوگ انتہائی نامساعد حالات میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں اُن میں ہانگ کانگ بہت نمایاں ہے۔ ہانگ کانگ میں جگہ کی اِتنی قلت ہے کہ لوگ کچن جیسے کمروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ہانگ میں چین کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے محنت کش اور ملازمت پیشہ افراد ڈربوں جیسے کیوبیکلز میں بھی رہتے ہیں۔ عرفِ عام میں اِسے شو بکس ہاؤسنگ کہا جاتا ہے۔ اِن چھوٹے چھوٹے کمروں میں انسان ٹھیک سے سانس بھی نہیں لے پاتا۔ حکومت پریشان ہے کہ رہائش کا مسئلہ حل کیسے کرے کیونکہ زمین کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ جن کے پاس زمین یا مکانات ہیں وہ کوئی بھی بات سُننے کو تیار نہیں اور لوگوں کی جیب سے زیادہ سے زیادہ مال بٹورنا چاہتے ہیں۔

حکومت نے رہائش کا مسئلہ حل کرنے کی اب تک جتنی بھی کوششیں کی ہیں وہ ناکامی سے دوچار ہوئی ہیں۔ نجی شعبہ ذرا بھی تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ جس کا داؤ چل رہا ہے وہ پوری بازی جیتنے کے فراق میں ہے۔

برطانوی اخبار دی گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ میں شو بکس ہاؤسنگ سے لاکھوں افراد کی صحت بھی خطرے میں ہیں۔ کمروں میں کمپارٹمنٹس بناکر لوگوں کو کھپایا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید گرمی اور گھٹن پیدا ہوتی ہے۔ تازہ ہوا کا گزر نہ ہونے کے باعث شو بکس ہاؤسنگ کے نرغے میں پھنسے ہوئے لوگ انتہائی مشکل صورتِ حال سے دوچار رہتے ہیں۔ اُنہیں مختلف عوارض بھی لاحق ہو جاتے ہیں۔ باتھ روم اور بیت الخلا کی سہولت بھی ناکافی ہوتی ہے۔

دی گارجین کے مطابق حکومت اس حوالے سے جامع منصوبہ سازی کر بھی لے تو کامیاب نہیں ہو پاتی کیونکہ مالکانِ مکان تعاون نہیں کرتے۔ وہ اپنے مفادات سے ذرہ بھر دستیاب ہونے کو تیار نہیں۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے