پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے جنوبی وزیرستان اور ٹانک میں بند عدالتوں کو دوبارہ فعال کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے، جس کے بعد رجسٹرار آفس پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے اس فیصلے کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس میں عدالتوں کی بحالی کی تفصیلات دی گئی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق جنوبی وزیرستان اور ٹانک کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور سینئر سول ججز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں جوڈیشل کام کا دوبارہ آغاز کریں۔ عدالتی کام کو مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے ججز، عدالتوں اور ان کے رہائشی مقامات پر سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
یہ عدالتیں امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر 2 اکتوبر 2024 کو بند کر دی گئی تھیں اور ڈی آئی خان منتقل کر دی گئی تھیں، جہاں ججز اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اب پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ان عدالتوں کو ان کے اصل مقامات پر بحال کیا جا رہا ہے۔
عدالتوں کی بحالی سے جنوبی وزیرستان اور ٹانک کے عوام کو انصاف کی جلد اور مقامی سطح پر دستیابی ممکن ہو سکے گی جبکہ سیکورٹی اقدامات کے تحت ان عدالتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

