
امریکا میں برڈ سے فلو سے ہلاکتوں پر ماہرین کا انتباہ
واشنگٹن: امریکی ریاست لوزیانا میں پچھلے دنوں برڈ فلو سے ہونے والی پہلی موت کی تصدیق پر ماہرین نے وارننگ جاری کردی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ چین کے بعد امریکا میں بھی برڈ فلو کے پائے جانے کی تصدق ہوئی ہے۔ جس کے مطابق چین کے بعد اب امریکا میں بھی برڈ فلوکے باعث ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جس شخص کی ہلاکت ہوئی ہے، اس کی عمرکوئی65 سال سے زائد ہے اور وہ دسمبر2024ءکے درمیانی عشرے سے اسپتال میں داخل تھا۔
امریکی محکمہ صحت کے سینٹر فار ڈیسیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے مذکورہ کیس کو ملک میں رپورٹ ہونے والاH5N1 وائرس کا پہلا پریشان کن مریض بتایا گیا تھا۔ اعلیٰ حکام کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ کیس کے بعد بھی شہریوں کے برڈ فلو کا شکار ہونے کا کوئی ایسا تشویشناک امر نہیں ہے لیکن پرندوں یا دڈیری فارم وغیرہ کے آس پاس کے رہائشی لوگ زیادہ اس خطرے کا شکار ہوسکتے ہیں۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق جو مریض برڈ فلوکاشکار ہوکر زندگی گنوا بیٹھا ہے وہ بھی پرندوں کی رکھوالی کی وجہ سےH5N1 کا شکار ہوا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ مریض کے ذریعے کسی دوسرے فرد میں یہ انفیکشن آگے منتقل نہیں ہوا اور نہ ہی تاحال کسی دوسرے شخص میں اس انفیکشن کی منتقلی کا کوئی ثبوت ملا ہے۔
ماہرین کے مطابق جانوروں کے بعد اب عوام الناس کے مذکورہ وائرل کا شکار ہونے کی خبروں نے سائنس دانوں کو بڑی گہری تشویش میں ڈالدیا ہے، گمان کیا جاتا ہے کہ یہ وائرل تیزی سے پھیل کرکسی جان لیوا وبائی مرض کی صورت اختیارنہ کر لے۔
