جکارتا (انٹرنیشنل ڈیسک) انڈونیشیا نے ملک میں خوراک کی کمی کے مسئلے سے پیدا شدہ مسائل سے نمٹنے کے لیے بچوں ، خواتین اور طلبہ کو دوپہر کا کھانا مفت تقسیم کرنے کے پروگرام کا آغاز کردیا۔ مغربی جاوا کے ایک جونیئر ہائی اسکول میں پروگرام کے افتتاح کے طور پر بچوں کو دوپہر کا کھانا پیش کیا گیا۔ انڈونیشیا میں یہ پروگرام پہلی بار شروع کیا گیا ہے،جس پر 4.3 ارب ڈالر بجٹ خرچ کیا جائے گا۔ یہ بجٹ 2025ء تک کے لیے ہو گا،جب کہ 5سالہ منصوبے پر 28ارب ڈالر صرف ہونگے۔ یاد رہے کہ پروگرام کا وعدہ صدر پرابووو سببیانتو نے انتخابی مہم کے دوران کیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو مفت خوری کا عادی بنارہی ہے۔
