English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مسلم ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم وقت کا اہم چیلنج، مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، وزیراعظم

sabotaged by spreading chaos

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم موجودہ دور کا ایک اہم چیلنج ہے، اور مسلم ممالک کو اس مسئلے کے حل کے لیے بڑے پیمانے پر کام کرنا ہوگا۔ وہ وفاقی دارالحکومت میں “مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم، چیلنجز اور مواقع” کے عنوان سے منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق اس کانفرنس میں 47 ممالک کے وزرا، اہم شخصیات، اور مختلف تنظیموں کے نمائندے شریک ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم ہر معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات ضروری ہیں تاکہ غریب ممالک کی لڑکیوں کو تعلیم تک رسائی فراہم کی جا سکے۔

وزیراعظم نے اسلام کی تعلیمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین سمیت معاشرے کے تمام افراد کے لیے علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے تاریخی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت خدیجہ نے اسلام کے ابتدائی دور میں نمایاں کردار ادا کیا، محترمہ فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان میں اہم خدمات انجام دیں، اور بے نظیر بھٹو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواتین ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ ارفع کریم نے آئی ٹی کے میدان میں ملک کا نام روشن کیا، اور ملالہ یوسف زئی کی ہمت و عزم پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔

وزیراعظم کے خطاب کے بعد کانفرنس میں بین الاقوامی شراکت داری کے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے، جو لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس معاہدے میں اسلامی تعاون تنظیم کے منتظمین، مسلم رہنما، اور سیکرٹری جنرل شامل تھے۔

تقریب کے دوران وزیراعظم نے عربی زبان میں بھی خطاب کیا، جسے شرکا نے تالیاں بجا کر سراہا۔ وزیراعظم نے اس عالمی کانفرنس کے انعقاد کو پاکستان کے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے اس میں شریک مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے