English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکی حکومت آتشزدگی پر قابو پانے میں تاحال ناکام ،20 مسلم خاندان بھی متاثر

القمر

لاس اینجلس (مانیٹرنگ ڈیسک) لاس اینجلس میں امریکی تاریخ کی تباہ کن آگ 9 روز بعد بھی بے قابو رہی،اور یہ شامل مشرق میں برینٹ ووڈ تک پھیل گئی ہے۔ ریسکیو ٹیموں کو تیز ہواؤں کے سبب آگ بجھانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں لگی آگ سے تباہ ہونے والی عمارتوں کا ملبہ ہٹانے پر پابندی عاید کردی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ عمارتوں کے ملبے، راکھ اور گرد میں بھاری دھاتیں اور دیگر خطرناک مواد شامل ہوسکتا ہے۔ یہ خطرناک اجزا سانس کے ذریعے، جلد پر لگنے سے یا پینے کے پانی میں شامل ہوکر جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔کچرے کو نامناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے سے ان خطرناک مادوں کے پھیلاؤ کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے جس سے امدادی کارکنوں، رہائشیوں اور ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اب تک 25 افراد ہلاک اور 12 ہزار سے زائد مکانات تباہ ہوچکے ہیں، 40 ہزار سے زائد ایکڑ رقبہ جل چکا ہے۔ مزید 88 ہزار افراد کو متاثرہ علاقہ چھوڑنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ دوسری جانب امریکا میں لگنے والی آگ انشورنس کمپنیوں پر بہت بھاری پڑی ہے ۔اندازے کے مطابق انہیں بیمہ کنندگان کو 30 ارب ڈالر تک ادائیگیاں کرنا پڑسکتی ہیں۔ لاس اینجلس میں 7 جنوری کو بھڑکنے والی آگے کے فوراً بعد اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا نے متاثرہ افراد کی مدد شروع کردی۔ تنظیم نے ریلیف کام کے لیے 250,000 ڈالر مختص کیے ہیں۔ متاثرہ لوگوں کو گرم کپڑے، کمبل اور تازہ خوراک پہنچانے کے علاوہ اکنا کے مخفف سے موسوم تنظیم، ماہر ین نفسیات کی خدمات بھی فراہم کر رہی ہے جو لوگوں کو اس المناک صورت حال میں تسلی اور امید کا پیغام دے رہے ہیں۔اکنا ریلیف یو ایس اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالروف خان نے وائس آف امریکا کو بتایا کہ ان کی اسلامی فلاحی تنطیم 3 ہزار خاندانوں کو امداد فراہم کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کیلی فورنیا کے جنوب میں آگ پھیلنے کے اس واقعے کے دوران 20 مسلمان خاندان بھی بے گھر ہوئے۔ امریکا کی دوسری تنظیمیں، جن میں پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کی تنظیم اپنا بھی شامل ہے، اکنا کے ماہرین اور رضاکاروں کی ٹیموں کے ذریعہ متاثرہ افراد کو امداد پہنچا رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے