ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر کی حیثیت سے دوسری مدت کے لیے حلف اٹھایا ہے تو امریکا میں مقیم لاکھوں تارکینِ وطن کے لیے شدید پریشانی کا سامان بھی ہوا جارہا ہے۔ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے اور اس حوالے سے جو کچھ بھی کرنا پڑا ضرور کریں گے۔
انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے بارہا کہا کہ تمام غیر قانونی تارکینِ وطن کو نکال باہر کیا جائے گا۔ اگر اُن کی ملک بدری آسانی سے ممکن نہ ہوئی تو طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔
اب وہ تارکینِ وطن بھی پریشان ہیں جن کی اولاد امریکا میں ہوئی ہے۔ امریکا میں پیدائش کی بنیاد پر شہریت دینے کا چلن رہا ہے مگر اب ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ سلسلہ بھی ختم کیا جائے گا۔ محض پیدائش کی بنیاد پر شہریت کے حق کا ختم کیا جانا تو اب یورپ میں بھی عام ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں اکثریت اُن ملکوں کی ہے جو محض پیدائش کی بنیاد پر شہریت نہیں دیتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے پیدائش کی بنیاد پر دی جانے والی شہریت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے تو بہت سے ملکوں کے لوگ پریشان ہیں۔ اِن میں بھارتی نمایاں ہیں۔ بھارت میں غیر قانونی اور قانونی تارکینِ وطن بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ بہت سے غیر قانونی تارکینِ وطن امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے بچوں کے حوالے سے شہریت کے استحقاق کا دعوٰی کرتے ہیں اور اس بنیاد پر اُن کی اولاد شہری بھی ہو جاتی ہے۔
اب یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے جن غیر ملکی کمیونتیز کے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں اُن کی اولاد کا کیا بنے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پیدائش کی بنیاد پر شہریت ختم کرنے کا ایگزیکٹیو آرڈر بھی جاری کردیا ہے۔ جو لوگ امریکا کے شہری نہیں ہیں اُن کی امریکا میں پیدا ہونے والی اولاد کے لیے شہریت کا حق ختم کیا جارہا ہے۔
اس ایگزیکٹیو آرڈر نے بھارت سے تعلق رکھنے والے لاکھوں غیر قانونی تارکینِ وطن کو شدید پریشانی سے دوچار کردیا ہے۔ امریکا میں ایسے لاکھوں بھارتی باشندے ہیں جو امریکی شہری نہیں مگر اپنے بچوں کی امریکا میں پیدائش کی بنیاد پر امریکا میں مستقل قیام کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے جاری کردہ ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت اگر کوئی بچہ امریکی سرزمین پر پیدا ہوا ہے تو اُس کے والدین میں سے کوئی ایک امریکی شہری ہو، قانونی طور پر مستقل قیام کا حق (گرین کارڈ) رکھتا ہو یا امریکی فوج سے وابستہ ہو تو اُس بچے کو امریکی شہریت دی جاسکتی ہے۔

