English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

لاس اینجلس ، جنگلات میں نئی آتشزدگی ، 25ہزار افراد کو انخلا کا حکم

لاس اینجلس کے جنگلات سے دھویں کے بادل بلند ہورہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ریاست کیلی فیورنیا کے شہر لاس اینجلس کے شمالی جنگلات میں نئی آگ بھڑک اٹھی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق کاسٹائک لیک کے قریب پہاڑوں پر بھڑکنے والی آگ تیزی سے پھیل گئی، جس کی وجہ سے 25 ہزار افراد کو انخلا کا حکم دے دیا گیا ہے اور 500قیدیوں کو ہنگامی طور پر دیگر جیلوں میں منتقل کردیا گیا۔ طوفانی ہواؤں کے باعث 2 گھنٹوں میں 5 ہزارایکڑ رقبہ آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ واضح رہے کہ لاس اینجلس پہلے ہی خوفناک آگ کی تباہ کاریوں سے نمٹ رہا ہے۔7 جنوری سے لاس اینجلس میں مختلف مقامات پر لگی آگ پر قابو پانے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔ آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچاتے ہوئے تقریباً 40 ہزار ایکڑ رقبے اور 14ہزار عمارتوں کو خاکستر کر دیا ،جب کہ اس دوران مختلف حادثات میں 28افراد ہلاک ہوئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کیلی فورنیا میں خشک اور تیز ہوائیں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔ موسمیات کے قومی ادارے کی پیش گوئی میں کہا گیا ہے کہ لاس اینجلس کے علاقے میں آگ سے متاثرہ علاقوں میں ہفتے کے روز بارش ہو سکتی ہے، تاہم اس کا امکان 60 سے 80 فی صد تک ہے۔ زیادہ تر علاقوں میں مجموعی طور پر 8 ملی میٹر سے زیادہ بارش کا امکان نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بارش سے آگ کے پھیلاؤ میں تو کمی آ سکتی ہے لیکن اس سے کچھ اور طرح کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک خدشہ یہ ہے کہ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی نشیب کی طرف بہ سکتا ہے جس سے مٹی کے تودے گر کر نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔علاقے میں بڑے پیمانے پر درختوں اور جھاڑیوں کے جل جانے سے مٹی کے تودے گرنے کے امکانات میں اضافہ ہو گیا ہے۔بارش کی صورت میں اگر پانی کا بہاؤ نشیبی آبادیوں کی طرف ہوا، جنہیں جنگل کی آگ سے شدید نقصان پہنچا ہے، تو ان کا ملبہ بھی پانی کے بہاؤ میں شامل ہو جائے گا۔خدشہ یہ ہے کہ راکھ ملے اس ملبے میں زہریلے اجزا شامل ہو سکتے ہیں جس سے ساحلی علاقوں اور سمندر ی حیات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لاس اینجلس کی میئر کیرن باس نے کہا ہے کہ انہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا ہے جس کا مقصد بارش کی صورت میں جلے ہوئے زہریلے ملبے کو پانی کے بہاؤ میں روکنے کے انتظامات کرنا ہے تاکہ ساحلی علاقوں اور سمندر کے پانی کو اس سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے کارکن زہریلے مواد کو پانی میں شامل ہونے سے روکیں گے اور سیوریج سسٹم میں ملبے کو جانے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے