English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یورپ میں کوئلے کا استعمال 50 فیصد کم ،شمسی توانائی کا رحجان تیز

القمر

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین نے شمسی توانائی کا استعمال بڑھاتے ہوئے کوئلے پر انحصار کم کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق قابل تجدید توانائی کے ذرائع کا تناسب یورپ میں توانائی شعبے کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ماحولیات سے متعلق تھنک ٹینک ایمبر نے توانائی جائزہ رپورٹ 2025 ء میں شائع کیے جس کے مطابق یورپ میں گیس کی پیداوار میں لگاتار پانچویں سال گراوٹ دیکھی گئی جبکہ فوسل فیول پر مبنی توانائی میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق یورپ کی گرین ڈیل پالیسی نے یورپی یونین کے توانائی شعبے کو تیزی سے تبدیل کیا۔ تھنک ٹینک کے مطابق 2024 ء کے دوران پہلی بار یورپی یونین میں بجلی کے حصول کے لیے شمسی توانائی کا استعمال کوئلے کے استعمال سے کہیں زیادہ کیا گیا اور یوں شمسی توانائی نے کوئلے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جبکہ قابل تجدید ذرائع یورپی یونین کی دوسری بڑی توانائی کا ذریعہ رہے جس کا استعمال گیس سے زیادہ اور نیوکلیئر سے کم ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی طور پر سولر میں مضبوط نمو نے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کا حصہ بڑھا کر 47 فیصد کردیا جو 2019 ء میں 34 فیصد تھا جبکہ فوسل فیول میں گراوٹ دیکھی گئی جو 39 سے کم ہو کر 29 فیصد تک آگیا۔ رپورٹ کے مطابق قابل تجدید توانائی اور سولر کی پیداوار فوسل فیول کی گراوٹ کی بڑی وجہ ہے۔ سولر اور قابل تجدید توانائی کے بغیر 2019 ء سے یورپی یونین نے 92 ارب کیوبک میٹر زیادہ فوسل گیس 5 کروڑ 50 لاکھ ٹن کوئلہ برآمد کیا۔ ایمبر کے مطابق اس طرح کے رجحانات پورے یورپ میں بڑے پیمانے پر دیکھے گئے جس میں تمام یورپی ممالک میں شمسی توانائی کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا۔ نصف سے زیادہ ممالک کوئلے کا بطور توانائی ذرائع استعمال ترک کر چکے ہیں یا اس کے استعمال میں بڑی حد تک کمی لائے ہیں۔ رپورٹ کے سرکردہ مصنف کرس روس لو نے کہا کہ 2019 ء میں یورپین گرین ڈیل کے تحت کوئلے اور گیس پر انحصار بڑی حد تک کم کیاگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے