
برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین کے خصوصی نمائندے برائے بین الاقوامی امور ڈیوڈ او سلیوان نے کہا ہے کہ روس پر پابندیوں کا سولہواں پیکیج تیار کرلیا گیا ہے۔ ڈیوڈ او سلیوان نے روس یوکرین جنگ چھڑنے کے بعد سے چوتھی بار قزاقستان کا دورہ کیا اور دارالحکومت آستانہ میں اپنے رابطوں کے بعد پریس بریفنگ دی۔ قزاقستان کے حکام کے ساتھ اہم پیش رفت ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے اوسیلیوان نے کہا کہ یورپی یونین کا روسی فیڈریشن کے ساتھ قزاقستان کے سرکاری تجارتی تعلقات میں مداخلت یا ان میں کسی بھی طرح سے رکاوٹ ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اوسیلیوان نے تشویش کا اظہار کیا کہ کاروباری دنیا کے کچھ نمایندے پابندیوں سے بچنے کے لیے قزاقستان کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ۔ دوسری جانب اسٹونیا کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان کا ملک ہمسایہ ممالک کے تعاون سے گشت کو تقویت دے کر بحیرہ بالٹک میں زیر آب کیبل کی حفاظت کے لیے کوشاں ہے۔ ہانو پیفکور نے خصوصی انٹرویو میں حالیہ سلسلہ وار واقعات پر اظہار خیال کیا جن میں بحیرہ بالٹک کی تہ پر بجلی اور مواصلاتی کیبل کو نقصان پہنچا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں شبہہ ہے کہ اسکے ذمے دار روس کے شیڈو فلِیٹ کے جہاز ہیں۔ یہ بحری بیڑا مبینہ طور پر مغربی ممالک کی پابندیوں سے بچتے ہوئے روسی خام تیل کی ترسیل کرتا ہے۔ حکام اس بات پر سنجیدگی سے بحث کر رہے ہیں کہ اس نوعیت کے حملوں کو روکنے کے لیے وہ کیا کر سکتے ہیں۔نقصان پہنچانے والے روسی جہازوں کو ذمے داری قبول کرنی ہو گی اور معاوضہ ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اصرار پر بھی تبصرہ کیا کہ ناٹو کے رکن ممالک دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھا دیں۔ پیفکور نے کہا کہ مغربی ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں اتنا اضافہ نہیں کیا کہ روس کو یوکرین پر حملہ کرنے سے روکا جا سکے۔
