
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک)امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا کے فوجی یوکرین اور روس کے جنگی محاذ سے غائب ہوگئے۔ شمالی کوریا کے دستے تقریباً 2ہفتوں سے محاذ پر نہیں دیکھے گئے۔ یہ انخلا مستقل نہیں ہو سکتا اور شمالی کوریائی فوجی اضافی تربیت حاصل کرنے کے بعد یا روسیوں کی جانب سے ان کی تعیناتی کے نئے طریقے تلاش کرنے کے بعد واپس آسکتے ہیں تاکہ بھاری جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ امریکا اور یورپی ممالک کا دعویٰ ہے کہ شمالی کوریا کے تقریباً 11ہزار فوجیوں کو مغربی روس کے کرسک علاقے میں تعینات کیا گیا ہے، جہاں یوکرینی افواج نے سرحد پار سے حملے کیے ہیں۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جنوری میں کہا تھا کہ شمالی کوریا کے تقریباً 4ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔دوسری جانب روسی فوج نے جنوبی یوکرین کے شہر اوڈیسا پر میزائل حملہ کیا،جس میں 7افراد زخمی اور تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ زخمی ہونے والے افراد میں ایک بچہ اور 2خواتین بھی شامل ہیں۔ صدر زیلنسکی نے حملے کو روسی دہشت گردی دیتے ہوئے کہا کہ یہ خوش قسمتی ہے کہ اس میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ حملے سے قبل جائے وقوع کے قریب ناروے کے سفارتی نمایندے موجود تھے،جو محفوظ رہے۔
